ایمسٹرڈیم : ہالینڈ کے لوگوں کا قد چھوٹا ہونے لگا… وجوہات سامنے آگئین

ایمسٹر ڈیم ( انٹرنیشنل دلچسپ وعجیب ڈیسک ) ڈچ قوم کاشمار دنیا کی طویل قامت قوم میں کیا جاتا ہے، لیکن ناقص اور غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال نے ان کے اوسط قد میں کمی کرنا شروع کردی ہے۔ برطانوی اخبار گارجیئن میں شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نیدر لینڈ کے قومی شماریاتی دفتر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے طویل قامت رکھنے والی قوم کا قد سال بہ سال کم ہوتا جا رہا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق 2020 میں 19 سالہ ڈچ نوجوانوں کا اوسط قد 6 فٹ (182.9 سینٹی میٹر) اور خواتین کا قد 5 فٹ 6 انچ تھا۔ حکومتی ادارے برائے شماریات کے مطابق 1958 سے نیدر لینڈ نے اس میدان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی تھی، تاہم 19 سے 60 سال کی عمر کے 7 لاکھ 20 ہزار افراد پر ہونے والے سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ 2001 میں پیدا ہونے والے لڑکوں کا قد 1980 میں پیدا ہونے والی نسل سے 1 سینٹی میٹر اور لڑکیوں کا قد 1 اعشاریہ 4 سینٹی میٹر کم ہے۔ مزید تحقیق کے بعد اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ اوسط قد میں کمی کی وجہ صرف دیگر ممالک سے نیدر لینڈ آنے والے افراد نہیں ہیں، کیوں کہ اس سے قبل ملک میں آنے والے غیر ملکیوں کی شرح پیدائش کو قد میں اوسط کمی سے جوڑا جاتا تھا۔ لیکن نیدر لینڈ میں مقامی باشندوں میں بھی نشوونما اپنے آباؤ اجداد کی نسبت ایک جگہ ٹہر گئی ہے۔ مردوں کے قد میں اضافہ نہیں ہو رہا جب کہ خواتین کے قد میں تنزلی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارے میں جامعہ گرونیگین کے شعبہ برائے سوشل سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر گیریٹ اسٹلپ نے گارجیئن کو بتایا کہ ولندیزی قوم کے اوسط قد میں کمی کے بارے میں بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ 2007 میں آنے والے معاشی بحران نے ملک میں قد سے متعلق مسائل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ معاشی مشکلا ت کی وجہ سے غریب گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچے صحیح غذا نہیں کھا سکے یا غالبا عدم مساوات میں اضافہ ہو گیا ہے جس کا نتیجہ اوسط قد میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایسا ہی ایک رجحان امریکا میں بھی دیکھاگیا ہے جس کا اہم سبب جنک فوڈ ز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، لوگوں کی غذائیں تبدیل ہو چکی ہیں۔ گزشتہ سال نشوونما کے لیے اہم غذائی اجزا کو اہمیت نہیں دی گئی، امریکیوں کے قد میں کمی کا سبب بھی زیادہ کیلیوریز( حرارے) اور کم غذایت والی غیر صحت مند غذا ہے۔ جب کہ لوگوں کا جانوروں سے حاصل ہونے والی مصنوعات ( دودھ، دہی، انڈے، پنیر اور گوشت) سے گریز بھی قد میں کمی کا سبب بن رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک صدی قبل تک دنیا کے سب سے طویل قامت افراد کا تعلق شمالی یورپ اور شمالی امریکا سے تھا۔ بیسویں صدی کے وسط تک ڈچ قوم کے اوسط قد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 1930 میں پیدا ہونے والے ڈچ لڑکے کا اوسط قد 5 فٹ 9 انچ اور 1980 میں پیدا ہونے والے لڑکے کا اوسط قد 6 فٹ تھا۔ جس سے ظاہر ہوتاہے کہ 50 سالوں میں ڈچ مردوں کے اوسط قد میں 8 اعشاریہ 3 سینٹی میٹر اضافہ ہوا۔ اسی طرح 1930 میں پیدا ہونے والی ڈچ لڑکیوں کا اوسط قد 5 فٹ 5 انچ، جب کہ 1980 میں پیدا ہونے والی لڑکیوں کا اوسط قد 5 فٹ 7 انچ تھا، یعنی 50 سالوں میں ان کے قد میں اوسطاً 5 اعشاریہ 3 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں