48

اسلام آباد : تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ جو بھی ہو پہلے سے زیادہ تگڑا ہوکر سامنے آئوں گا ؛ وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

اسلام آباد : (رمشاء منیر) قومی ٹیم وی چینل پر وزیراعظم عمران خان نےقوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ دھمکی آمیز خط امریکا نے لکھ بعد ازاں فوری طور پر لفظ امریکہ کی بجائے ایک ملک ستعمال کرتے ہوئے کہا کہ خط میں کہا گیا کہ اگر عدم اعتماد تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کی تمام غلطیاں معاف ہوجائیں گی لیکن عمران خان وزیراعظم رہے تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے تحریک عدم اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتوار کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔ قومی ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے قوم سے اہم بات کرنی ہے ملک کے مستقبل کے لیے، میرا یہ خطاب براہ راست نشر کیا جارہا ہے جس کا مقصد قوم کو اعتماد میں لینا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح بہت بڑے سیاست دان لیڈر اور وکیل تھے، زیادہ تر لوگوں کو سیاست سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، اللہ نے مجھے سب کچھ دیا، میری زندگی میں ضرورت سے زائد پیسہ تھا میرے پاس سب کچھ پہلے سے ہی ہے میں اپنے مکان میں رہتا اور اپنا خرچ خود اٹھاتا ہوں لیکن میں پھر بھی سیاست میں آیاان کا کہنا تھا کہ میرے والدین غلامی کے دور میں پیدا ہوئے، وہ تحریک پاکستان میں شریک تھے اور مجھے احساس دلاتے تھے کہ تم آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو، خودداری آزاد قوم کی پہچان ہوتی ہے، سیاست میں اس لیے آیا کہ ہمارا ملک کبھی بھی وہ ملک نہیں بن سکا جو علامہ اقبال اور محمد علی جناح کا خواب تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا اور اس کا تصور ریاست مدینہ ہے، جب میں نے 25 برس قبل سیاست شروع کی، میں نے منشور میں انصاف کو شامل کیا تاکہ طاقتور اور کمزور کے لیے قانون یکساں ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد لاالہ الا اللہ پر ہے اور کلمہ طیبہ انسان کو غلامی سے آزاد کرتا ہے، میرے پاس سب کچھ موجود تھا ایسا انسان جس کے پاس سب کچھ ہو اپنی زندگی کے بائیس سال خرچ کرکے سیاست میں کیوں آئے گا؟ وجہ کیا ہے؟ مجھ سے لوگ سوال کرتے تھے کہ سیاست میں کیوں آیا؟ میرا جواب تھا اپنی قوم کی خاطر آیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایک مسلمان قوم غلام قوم نہیں بن سکتی، پیسے اور خوف کی غلامی شرک ہے، یہ سب ہمارے منشور میں شامل ہیں، اگر ایمان نہیں ہوتا تو سیاست میں نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’مراسلے پر شک کیا گیا، میں نے کابینہ کے سامنے مراسلہ رکھا، اس کے بعد قومی سلامتی کونسل کا اجلاس کیا اور مراسلہ ان کے سامنے رکھا اور پھر سینئر صحافیوں کے سامنے پیش کیا، یہ مراسلہ اکسانے کے لیے نہیں ہے، اس ڈاکیومنٹ میں پاکستان کی بقاء کے حوالے سے خطرناک الفاظ لکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی، اس اتوار کو ملک کا فیصلہ ہوگا کہ یہ کس طرف جائے گا، کیا و ہی لوگ ہوں گے جو کرپشن کرتے ہیں اور جن کے اثاثے ملک سے باہر ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ’مجھ سے کہا جانے لگا کہ ملک کے حالات ساڑھے تین سال میں کیا ہو گئے؟ لیکن متحدہ اپوزیشن تو 30 برس سے تھی، مجھے لوگوں نے کہا کہ میں استعفیٰ دے دوں، میں آخری گیند تک مقابلہ کرتا ہوں، تحریک عدم اعتماد کا جو بھی نتیجہ ہوگا اس کے بعد میں اور بھی تگڑا ہوجاؤں گا ۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ خط کا بھرپور طریقے سے جواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرونی آقائوں کے ذریعے ماضی میں جنرل راحیل شریف کو غلط اور خود کو صحیح کہلوایا گیا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود کو صحیح اور اپنے جنرل کو غلط کہلوائوں انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اپنی قوم سے یہ عہد کیا کہ اپنی قوم کو کبھی جھکنے نہیں دوں گا اور میں اسی پر عمل پیرا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ماضی میں میر جعفر اور میر صادق نے مسلمانوں کو اپنے مفادات کیلئے نقصان پہنچایا اسی طرح یہ آج کے دور کے میر جعفر اور میر صادق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مجھ میں خون ہے میں پیچھے ہٹوں گا نہ جھکوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساڑھے تین سالہ دور میں وہ کام ہوئے جو سابقہ ادوار میں کسی نے نہیں کئے اور میں اس کیلئے چیلنج کرتا ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں