34

حکومت کا قوم کو تاریخی تحفہ چاغی میں ریکوڈک کی سونے و تانبے کی کان دنیا اب پاکستان کے حوالے

بلوچستان (اسامہ عنائیت) حکومت کا قوم کو تاریخی تحفہ چاغی میں ریکوڈک کی سونے و تانبے کی کان دنیا کی 5ویں بڑی کان ہےحکومت کا قوم کو تاریخی تحفہ چاغی میں ریکوڈک کی سونے و تانبے کی کان دنیا کی 5ویں بڑی کان ہے.12.3 ملین ٹن تانبہ اور 20.9M اونس سونا ہے. مجموعی مالیت 1500 ارب ڈالر ہے جو 🇵🇰 کی GDP کا 5 گنا ہے. 50 سال تک 2M ٹن تانبا اور 2.5M اونس سونا نکلنے کی شرح ہے.کینڈین کمپنی نے 2010 میں ‏فزیبلٹی مکمل کرکے صوبائی حکومت سے مائننگ کی اجازت مانگی تو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نےمعاہدہ کالعدم قرار دیدیا ہے. جس پر بارک گولڈ جو دنیا کی سب سے بڑی تانبے و سونے کی مائننگ کمپنی ہے عالمی عدالت میں چلی گئ. عدالت نے معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان پر 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کردیا ‏جبکہ بارک گولڈ کی اتحادی چلی کی کمپنی آنٹوفوگیسٹا نے برطانوی کورٹ میں کیس کیا جہاں سے 4 بلین جرمانے کی سزا ملی. 2019 میں موجودہ حکومت نے دونوں کمپنیوں سے ماورائے عدالت مذاکرات شروع کئے. جو 3 سال کی کوششوں کےبعد کامیاب ثابت ہوے. حکومت پاکستان نے نئی شرائط پر نیا معاہدہ کیا ہے ‏جسکی حتمی منظوری پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ دیگی.2006 کے معاہدے میں 75 فیصد شئیرز کمپنیوں جبکہ 25 فیصد صوبائی حکومت کے پاس تھے. نئے معاہدے کے تحت 11 بلین ڈالرز کی پینلٹی ختم کردی جائے گی. تاہم چلی کی کمپنی کو 900 ملین وفاقی حکومت اخراجات کی مد میں ادا کریگی. کمپنیوں ‏اور پاکستان کا حصہ 50-50 کردیا گیا ہے. 25 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 25 فیصد صوبائی حکومت کا ہوگا. کمپنیاں 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرینگی. 9 ارب ڈالر کی لاگت سے مائننگ کا تمام انفراسٹرکچر بنایا جائے گا جبکہ 1 بلین ڈالر سے چاغی میں ترقیاتی منصوبے لگاے جائیں گے جن میں ہسپتال. ‏اسکولز روڈز اور صاف پانی شامل ہیں. 8000 مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا جائے گا. معاہدے کی مدت 50 سال ہوگی. حکومت نے اس معاہدے کو ملک کی تقدیر بدلنے کے برابر کہا ہے.ہم دعاگو ہیں کہ یہ منصوبہ بغیر کسی مزید اسکینڈل کے پایا تکمیل تک پہنچے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں