75

اسلام آباد : گورنر اسٹیٹ بینک کو ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ دی جارہی ہے، وزارت خزانہ

اسلام آباد : وزارت خزانہ نے سینٹ سیکریٹریٹ کو تحریری جواب میں بتایا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ مل رہی ہے اور ان کی تنخواہ میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ ڈیلی جستجو ڈاٹ کام اور جستجو نیوز ڈاٹ ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سینٹرعرفان صدیقی نے ایوان بالا میں گورنر اسٹیٹ بینک کو ملنے والی تنخواہ کی تفصیلات پر سوال کیا تھا، اور پوچھا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آئی ایم ایف میں کتنے عرصہ کیلئے ملازم رہے، پاکستان میں بطور گورنر اسٹیٹ بینک ملنے والی تنخواہ اور مراعات کتنی ہیں۔ وزارت خزانہ نے گورنر اسٹیٹ بینک کے حوالے سے تفصیلات کا تحریری جواب سینٹ سیکریٹریٹ کو جمع کرا دیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ مل رہی ہے اور ان کی تنخواہ میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کو فرنشڈ گھر یا اس کے برابر کرایہ اور مرمتی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، ان کے پاس ڈرائیور سمیت دو گاڑیاں ہیں اور انہیں گاڑیوں کے استعمال کی مد میں 600 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے، جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو بجلی، گیس، پانی اور جنریٹر کے اخراجات فراہم کیے جاتے ہیں اور ان کے بچوں کی 75 فیصد فیس ادا کی جاتی ہے، جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو مفت لینڈ لائن، موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی حاصل ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک 4 ملازمین رکھ سکتے ہیں اور ہر ملازم کی تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ ہے، گورنر کو 24 گھنٹے سیکیورٹی اور سکیورٹی گارڈز کی سہولت حاصل ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کو مکمل علاج کی سہولت حاصل ہے، وزارت خزانہ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک کو ہر ماہ تین دن چھٹی کی سہولت حاصل ہے، ان کی گریجویٹی ایک ماہ کی تنخواہ سالانہ ہے، ان کو ٹرانسفر کے لیے خاندان سمیت ائیر ٹکٹ اور سامان منتقلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو کلب کی ماہانہ چارجز سمیت سہولت حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں