69

بہاورلپور: نوازشریف کی نااہلی ختم کرانے کی سپریم کورٹ بار کی درخواست پر وزیراعظم برہم

بہاورلپور: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ بار جھوٹ بول کر باہر جانے والوں کو پھر سے موقع دینے کے لیے عدالت پہنچ گئی، بار کو اگر اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تو غریبوں کو جیلوں میں کیوں رکھا ہوا ہے ساری جیلیں کھول دی جائیں۔ یہ بات انہوں نے بہاولپور میں نیا پاکستان صحت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنتے نہیں دیکھا لیکن برطانیہ گیا تو پہلی بار فلاحی ریاست دیکھی جہاں مریض کے پاس پیسے نہ ہونے کے باوجود اس کا علاج ہوتا دیکھا، وہاں کے قومی اسپتالوں میں مفت علاج ہوا جہاں والدہ کا علاج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی کریمﷺ کو رحمت اللعالمین بناکر بھیجا سب انسانوں کے لیے، یعنی جو ان کی سنت پر عمل کرے وہ آگے جائے گا، مغرب والے فلاحی ریاست کے معاملے میں ہم سے بہت آگے ہیں جب کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان ممالک میں شاید ہی کوئی فلاحی ریاست ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے لیے کہاں سے پیسہ لائیں؟ جبکہ سب سے زیادہ پیسہ صحت پر خرچ ہوتا ہے، برطانیہ میں صرف صحت کا بجٹ پاکستان کے پورے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہے، ہم جو ہیلتھ انشورنس کارڈ دے رہے ہیں وہ مغرب میں بھی نہیں لے گا کیوں کہ وہاں انشورنس کے عوض پیسے دیے جاتے ہیں جبکہ حکومت یہ مفت دے رہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے تمام آبادی کے لیے اسپتال بنانے کے وسائل نہیں، یہ ہیلتھ کارڈ پہلی باردیا جارہا ہے جس سے پاکستان کے ہیلتھ کے شعبے میں انقلاب آئے گا، ملک کی تاریخ میں آج تک عوام پر اتنا خرچہ نہیں ہوا، پنجاب حکومت صرف ہیلتھ کارڈ پر 400 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ملکی دولت میں اضافہ 5.60 فیصد ہے، یہ وہ ہے جو ن لیگ نے پانچویں سال میں قرضے لے لے کر کیا، گلوبل وارمنگ کے معاملے میں ہماری تبدیلیوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا، اسی طرح ہمارا احساس پروگرام ہے جس کی بھی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی۔ عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو بہت وسائل سے نوازا لیکن اگر آپ ایک فیکٹری پر بھی چور بٹھادیں گے تو وہ تباہ ہوجائے گی، قوم وسائل کی کمی سے غریب نہیں ہوتی، سوئٹزرلینڈ اس لیے امیر ملک ہے کہ وہ چوری نہیں، قبضہ گروپ نہیں، ادارے مضبوط ہیں اور یہی ہماری جدوجہد پاکستان کے لیے ہے، اسے فلاحی ریاست بنانے کے لیے انصاف کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔ نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی ختم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ بار کی درخواست پر وزیراعظم عمران خان نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ بار جھوٹ بول کر باہر جانے والوں کو ایک بار پھر موقع دینا چاہتی ہے، سپریم کورٹ بار کو اگر اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تو غریب مجرموں کا کیا قصور ہے انہیں کیوں جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں ںے سپریم کورٹ بار پر مزید تنقید کی اور کہا کہ وہ یہ درخواست بھی کردیں کہ پورے پاکستان کی جیلیں کھول دی جائیں، پاکستان کا تین بار وزیراعظم بننے والا شخص لندن کے مہنگے ترین علاقے میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہے، پوچھا جائے کہ پیسہ کہاں سے آیا تو جواب ملتا ہے کہ بچوں سے پوچھا جائے اور بچے جواب دیتے ہیں کہ ہم پاکستان کے شہری ہی نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حضرت علیؓ نے کہا کہ حکومتی نظام کفر سے چل سکتا ہے لیکن انصاف کے بغیر نہیں، دنیا حیران ہے کہ مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے کیسے آگئے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں