اسلام آباد : آئی ایم ایف ٹیکس بڑھانے کا کہہ رہا ہے ؛ شہزاد اکبر

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیکس بڑھانے کا کہہ رہا ہے۔ شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف حکومت جب سے آئی ہے، شوگر اسکینڈلز سمیت دیگر مسائل کی انکوائری کرائی ہے، وفاقی حکومتوں نے پہلے ایسے کبھی انکوائریاں نہ کیں اور اگر کی بھی تو عوام کو نہیں بتائیں، شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں گزشتہ پانچ سال کے آڈٹ کے نتیجے میں 619 ارب کے واجبات تمام شوگر ملز پر نافذ ہوئے، یہ سیلز ٹیکس 89 ملز نے چھپایا تھا، 10 شوگر ملز نے ہائی کورٹس سے اسٹے لیا ہوا ہے، ان سٹے لینے والوں میں کچھ شریف لوگ بھی شامل ہیں، 619 ارب کے ٹیکس میں سے 31 ارب کا معاملہ عدالت میں ہے، گزشتہ شوگر ملز سے ٹیکس کی مد میں دوگنا ریکوری ہوئی جو بڑی کامیابی ہے۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ مسابقتی کمیشن کی کارروائی میں شوگر انڈسٹری پر 44 ارب کا جرمانہ عائد کیا گیا، کچھ کیسز کارپوریٹ فراڈ اور منی لانڈرنگ کے کیسز تھے، تمام سٹہ بازوں کیخلاف کارروائی کی گئی، ایف بی آر نے 13.8 ارب ٹیکس سٹہ بازوں پر نافذ کیا، تمام کسانوں کے واجبات بھی ادا ہو گئے، چینی کی قیمت پہلی مرتبہ فکس کی گئی، چینی کی قیمت فکس کرنے پر حکومت کو بہت مسائل درپیش آئے، فکس کی جانے والی قیمت پر چینی کی سپلائی ایک چیلنج ہے، ایف بی آر کیطرف سے تمام شوگر ملز پرٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے، شوگر کی تمام مینوفیکچرنگ ایف بی آر کے پاس ہوگی، گنے کی پروکیورمنٹ کو آن لائن کیا جا رہا ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ پیٹرولیم میں گزشتہ سال قیمتیں بہت کم ہوئیں تو پیٹرولیم کی قلت بھی ہوئی ، پیٹرولیم انکوائری کمیشن نے بتایا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز نے ذخیرہ اندوزی کی تھی اور قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دیا گیا، جب قیمت کم تھی جو تیل خریدا گیا تو سستا تیل عوام تک نہ پہنچ سکا اس میں 3.5 ارب کا نقصان ہوا، وہ 3.5 ارب ان تمام کمپنیوں سے وصول کیا جا رہا ہے، پورے ملک میں 2 ہزار سے زائد غیر قانونی پیٹرول پمپ بند کیے گئے۔ مشیر احتساب نے کہا کہ براڈ شیٹ انکوائری میں اوور سیز کیلئے ریکوری کرنا تھی، کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2009 سے 2015 تک اور 2016 سے 18 تک پاکستان کا مقدمہ صحیح نہیں لڑا گیا، حکومت پاکستان کا کہنا تھا کہ جو ریکوریز ہوئی بھی اس میں براڈ شیٹ نے کوئی کام نہ کیا، وفاقی کابینہ اس چیز کی انوسٹی گیشن کر رہی ہے کہ کیا واقعی کسی کی کوتاہی تھی، جس کی بھی کوتاہی ہوگی وہ واجبات ادا کریگا۔ مشیر احتساب نے مزید کہا کہ نیب آرڈیننس میں تھوڑا سا ابہام ہے، بیوروکریسی سمجھتی ہے کہ نیب انہیں تنگ کرتا ہے، اس قانون کے تحت یہ واضح ہوگیا کہ محض مشورہ دینا نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتا، مشورہ دینے والے افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ، اگر کوئی کرپشن تھی تو پھر نیب کارروائی کر سکتا ہے، جو ادارہ اپنا کام بہتر نہیں کرتا وزیر اعظم اس پر تنقید کرتے ہیں، ایک پرائیویٹ بندہ جس کا تعلق پبلک آفس سے نہیں ہے وہ بھی نیب کے دائرے میں نہیں ہے، نیب کو دشواری آرہی ہے کہ اب قانون کے تحت تمام ثبوتوں کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ ہونی ہے۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف ٹیکس بڑھانے کا کہہ رہا ہے، وزیراعظم نے شروع سے ٹیکس کم سے کم رکھنے اور عوام پر کم از کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی ہے، لیکن عالمی منڈی کی قیمتیں ان کے اختیار سے باہر ہیں، عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے سے پاکستان میں بھی بڑھتی ہیں، اس وقت پٹرول انٹرنیشنل مارکیٹ میں تین سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں