گجرات : شہر کی مشہور و معروف سرکاری تعلیمی درسگاہ کے گرد کوڑے کا ڈھیر ۔۔۔۔۔ اداروں کی ” علم دوستی ” کا منہ بولتا ثبوت

گجرات : شہر کی مشہور و معروف سرکاری تعلیمی درسگاہ کے گرد کوڑے کا ڈھیر ۔۔۔۔۔ اداروں کی ” علم دوستی ” کا منہ بولتا ثبوت، تفصیلات کے مطابق گجرات شہر نزد مچھلی چوک جانب شاہدولہ روڈ واقع مشہور تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ اسلامیہ اسکول کے گرد کچرے کے ڈھیر مدتوں لگے رہنے سے جہاں راہگیروں کو تکالیف و مشکلات کا سامنا ہے وہیں مستقبل کے معماروں کیلئے گندگی و غلاظت کے ڈھیر انہیں ” صفائی نصف ایمان ہے ” سے دور کرنے کی گھنائونی سازش ہے ۔ حکومت وقت نے ایف بی آر کو عوام سے ٹیکس وصولی کیلئے تو متحرک کرنا شروع کردیا ہے لیکن ان بیوروکریٹس کو کب حقیقی عوامی خدمتگار بنایا جائے گا ؟ ان مقاصد کیلئے رکھے گئے فنڈز کا کبھی آڈٹ ہی نہیں ہوا نہ ہی ان اداروں پر خرچ ہونیوالے فنڈز کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لایا گیا ہے ۔ یہ کچرا اہلیان علاقہ نہیں بلکہ سینٹری ورکرز اپنی ہاتھ گاڑیوں کے ذریعے گھروں سے جمع کرکے یہاں پر پھینک جاتے ہیں بعد ازاں یہاں سے کچرے کو تلف کرنے کیلئے اٹھانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی جاتی ۔ ادارہ ڈیلی جستجو ڈاٹ کام سے شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلیوں کی صفائی کرنے والا عملہ اول تو آتا ہی نہیں اور اگر کوئی ھولا بھٹکا کبھی آبھی جائے تو نالیوں کا گند ساتھ ہی گلیوں یں نکال کر ہر گھر سے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوپر والے نہیں تو کم از کم عوامی اور بیوروکریسی کی سطح پر ہی کرپشن فری معاشرے تشکیل دیئے جائیں ۔ کرپٹ عملے کو ناصرف نوکریوں سے رخاست کیا جائے بلکہ قرار واقعی سزائیں بھی دی جائیں مزید برآں تمام سرکاری عمارتوں بشمول تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، لاری اڈوں اور پبلک مقامقامات پر جدید ترین کیمرے نصب کرنے کے ساتھ کچرے دان رکھے جائیں اور 100 سے 1000 روپے جرمانے مقرر کئے جائیں تاکہ عوام میں عملی طور پر اپنے شہروں کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے شعور بیدار ہو اور اداروں کو ریونیو بھی ملے ۔ اگر عملہ غلط پایا جائے تو نوکری سے فارغ کرنے کے ساتھ جرمانہ و سزا بھی دی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں