واشنگٹن : امریکا میں اسقاط حمل کے حق میں ہزاروں خواتین کی ریلی

واشنگٹن ڈی سی ( انٹرنیشنل نیوز ڈیسک ) امریکا میں ہزاروں خواتین اسقاط حمل کے حق کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں اور حکومت سے پابندی عائد کرنے کا بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں سپریم کورٹ کے سامنے ہزاروں خواتین نے اسقاط حمل کے قانون کے خلاف احتجاج کیا جب کہ دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے بینرز اُٹھا رکھے تھے جس میں “میرا جسم ، میری مرضی” “اپنے بچہ دانی کا خیال رکھیں” “اسقاط حمل ذاتی انتخاب ہے، قانونی بحث نہیں۔” سمیت اسقاط حمل کے حق میں مختلف نعرے درج تھے۔ خواتین نے اسقاط حمل کے ’ہارٹ بیٹ‘ نامی قانون کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ یہ قانون ٹیکساس کی ریاست نے گزشتہ ماہ ہی متعارف کرایا تھا جس کے تحت رحم میں بچے کی جب دل کی دھڑکن شروع ہو جانے کے بعد اسقاط حمل نہیں کرایا جا سکتا۔ احتجاج میں شامل خواتین نے اسقاط حمل کو ذاتی حق قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹیکساس کی پیروی میں مزید ریاستیں بھی اسقاط حمل کا قانون سخت کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس نے حمل ٹھہرنے کے 6 ہفتوں بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد کردی ہے کیوں کہ 6 ہفتوں بعد بچے کے بے جان جسم میں دل کی دھڑکن شروع ہوجاتی ہے اور زندگی کی رمق کا آغاز ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں