جنیوا : آسٹرازینیکا کی کورونا ویکسین کے مضر اثرات کی شکایات بے بنیاد ہیں ؛ عالمی ادارہ صحت

جنیوا ( انٹرنیشنل ہیلتھ ڈیسک ) بھارت، تھائی لینڈ اور 3 یورپی ممالک نے آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرا زینیکا کی تیار کردہ کورونا ویکسین سے خون کے لوتھڑے بننے کی شکایت کی ہے تاہم عالمی ادارہ صحت نے ان خدشات کو مسترد کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 3 یورپی ممالک نے ڈنمارک، ناروے اور آئس لینڈ  نے آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرازینیکا کی تیار کردہ کورونا ویکسین کے ٹیکوں کے لگانے کی مہم کو روک دیا تھا۔ ان ممالک کا کہنا تھا کہ ویکسین سے شریانوں میں خون کے لوتھڑے بننے کا عمل شروع ہوگیا تھا۔ ان تین یورپی ممالک کے بعد تھائی لینڈ نے بلڈ کلاٹنگ کی وجہ سے آسٹرازینیکا کی ویکسی نیشن کو روک دیا تھا جب کہ بھارت نے بھی اسی مضر اثر کے باعث تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم کسی بھی ملک نے واضح طور پر نہیں بتایا کہ کتنے لوگوں میں مضر اثرات دیکھے گئے ہیں۔ آسٹرازینیکا نے بھی اس حوالے سے بتایا کہ کسی ملک کی جانب سے مضر اثرات سے متعلق ٹھوس اعداد و شمار پیش نہیں کیے گئے، یہ مضر اثر کسی بھی ویکسین کے لگانے سے نہیں ہوتا۔ ادھر عالمی ادارہ صحت نے بھی کہا ہے کہ آسٹرازینیکا کی وجہ خون میں خرابی معقول جواز نہیں کیوں کہ کسی بھی قسم کی ویکسین سے ایسا مضر اثر نہیں ہوسکتا ہے۔ ویکسی نیشن معطل کرنے والے ممالک فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ آسٹرا زینیکا ویکسین اور بلڈ کلاٹ کے مابین کوئی معقول تعلق نہیں تاہم ممالک کے خدشات دور کرنے کے لیے مشاورتی کمیٹی ویکسین کے محفوظ ہونے کے ڈیٹا کا جائز لے گی۔ آسٹرازینیکا کی ویکسین استعمال کرنے والے آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے کسی بھی قسم کے ری ایکشن کی تردید کرتے ہوئے ویکسین کے نتائج کو بہترین قرار دیا جب کہ برطانیہ نے شدید الرجی کی شکایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں