گوجرانوالہ / لاہور : مینوفیکچرنگ فیکٹریوں نے گزشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود پلاسٹک کراکری قیمتوں میں من مانے اضافے کرکے ہوشربا مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ؛ کوئی پوچھنے والا نہیں عوام کا احتجاج

گوجرانوالہ / لاہور ( نمائندگان خصوصی) گوجرانوالہ / لاہور : مینوفیکچرنگ فیکٹریوں نے گزشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود پلاسٹک کراکری قیمتوں میں من مانے اضافے کرکے ہوشربا مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ، کوئی پوچھنے والا نہیں عوام کا احجتاج ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں گوجرانوالہ اور لاہور پلاسٹک کراکری مینوفیکچرنگ کی لاتعداد فیکٹریاں شب و روز پلاسٹک کراکری کی پروڈکٹس تیار کرنے میں مصروف ہیں اور اربوں روپے کا پلاسٹک کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں گزشتہ ماہ فروری 2021ء میں پیٹرولیم مصنوعات میں کسی بھی قسم کے اضافے نہ ہونے کے باوجود گوجرانوالہ اور لاہور کی پلاسٹک کراکری مینوفیکچرنگ فیکٹری مالکان نے پلاسٹک پروڈکٹس پر من مانے اضافے کرکے ہوشربا مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ہے اور ہر دوسرے روز ریٹ بڑھا کر پلاسٹک پروڈکٹس عام خریداروں کی دسترس سے دور کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت پاکستان سمیت وزیراعظم پاکستان عمران خن کو بھی یہی پلاسٹک مینوفیکچرنگ فیکٹریز مالکان تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ڈسٹری بیوٹرز اور ہولسیلرز سے کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی کررہی ہے حکومت پاکستان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کررہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور جان بوجھ کر مہنگائی کا طوفان برپا کرکے حکومت اور وزیراعظم کو عوامی سطح پر بدنام کرنے مذموم سازش کی جارہی ہے جس میں سب سے زیادہ اہم کردار بڑے لیول کے تاجر ادا کررہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے وزیراعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ اداروں کے اعلٰی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پلاسٹک مینوفیکچرنگ فیکٹریوں کے مالکان کو فوری طور پر لگام ڈالی جائے اور ان پر قیموں کو اپنی پروڈکٹس پر پرنٹ کرنے کا پابند کیا جائے تاکہ نہ صرف مہنگائی کو کنٹرول کیا جاسکے بلکہ ٹیکس چوری جیسے قومی مجرموں کو بھی دائرہ اختیار میں لایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں