اسلام آباد : فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس اعداد وشمار میں تضادات

 اسلام آباد ( کامرس رپورٹر )  فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے ابتدائی نصف ( جولائی تا دسمبر ) کے دوران انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 38.5 ارب روپے ( مجموعی انکم ٹیکس کا 4.3 فیصد ) کا ریونیو اکٹھا کیا۔ دوسری جانب ایف بی آرکے ٹیکس کے اعدادوشمار میں بھی تضاد سامنے آیا ہے۔ ایف بی آر کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ادارے نے جولائی تا دسمبر انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 38.5 ارب روپے اکٹھا کیے۔ یہ رقم جولائی تا دسمبر 2020 میں جمع کیے گئے مجموعی انکم ٹیکس کا 4.3 فیصد ہے۔ اگرچہ یہ رقم اب بھی کم ہے مگرگذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں جمع کیے گئے ٹیکس سے تقریباً دگنی ہے۔ گذشتہ مالی سال میں جولائی تا دسمبر ایف بی آر نے 19.7 ارب روپے جمع کیے تھے۔ مالی سال 2020-21ء کے پہلے نصف میں رضاکارانہ انکم ٹیکس کی ادائیگیوں سے حاصل ہونے والی رقم کا حجم 256.7 ارب روپے رہا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں محض 3.4 فیصد زائد ہے۔ رضاکارانہ ادائیگیوں میں سالانہ ریٹرن کے ساتھ ہونے والی ادائیگیاں اور پیشگی انکم ٹیکس شامل ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر سالانہ ریٹرن کے ساتھ اداکردہ ٹیکس 50.3 ارب روپے رہا جو گذشتہ سال کے زیرتبصرہ عرصے کی نسبت 1.3 فیصد کم ہے۔ پچھلے مہینے میں ایف بی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ انفورسمنٹ اقدامات کے نتیجے میں سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ ادا کیے جانے والے ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ایف بی آر ہیڈکوارٹر کی جانب سے مرتب کی جانے والی تازہ کارکردگی رپورٹ سے انکم ٹیکس ریٹرن برائے 2019 کے ساتھ ادا کردہ ٹیکس اور گذشتہ ماہ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشما رمیں 23 ارب روپے کا فرق ظاہر ہورہا ہے۔ ایف بی آر نے دعوی کیا تھا کہ سالانہ ریٹرن برائے 2020 کے ساتھ ادا کیا گیا انکم ٹیکس دسمبر 2020 کے اٰختتام پر 55فیصد بڑھ کر 43.5 ارب روپے رہا۔ دوسری جانب ایف بی آر کے جاری کردہ ہینڈ آئوٹ میں مزید کہا گیا کہ دسمبر 2019 تک ٹیکس دہندگان نے 28 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ تاہم ایف بی آر کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ اور جولائی تا دسمبر 2019 کے سہ ماہی جائزوں میں یہ اعدادوشمار مختلف ہیں۔ رابطہ کرنے پر ایف بی أر کے ترجمان سید ندیم رضوی نے کہا کہ پریس ریلیز میں دیے گئے اعدادوشمار ٹیکس سال 2019 اور 2020سے متعلق تھے جب کہ ماہانہ کارکردگی رپورٹ میں ٹیکس مع ریٹرن کے ذیل میں گذشتہ مالی سالوں سے متعلق ادائیگیاں بھی شامل تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکس سال 2019 میں ٹیکس کی ادائیگیاں 33.6 ارب روپے اور ٹیکس سال 2020 کے لیے 49.6 ارب روپے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں