پاکستان میں موٹر سائیکل سوار اور ہیلمٹ کا استعمال ۔ از قلم ؛ ملک ظفر اقبال

اگرچہ موٹرسائیکل ہیلمٹ کی ایجاد 1914 میں ہوچکی ہے ، جب بروک لینڈ  ریس ٹریک کے میڈیکل آفیسر ایرک گارڈنر نے بیتنال گرین کے ایک مسٹر ماس کو ہدایت کی کہ وہ سواروں کے لئے کینوس اور شیلک ہیلمٹ بنائیں ، تو وہ عام طور پر یہ ہلمنٹ صرف ریسنگ کے لئے استعمال ہوتے تھے۔بدقسمتی سے پاکستان میں موٹر سائیکل سوار صرف دکھاوے کے لیے ہیلمٹ کا استعمال کرتے ہیں بہت کم لوگ ہیں جو اپنے ذاتی تحفظ کے لئے ہلمنٹ  استعمال کرتے ہیں مگر اکثر دوران سفر پہ دیکھا گیا ہے کہ ہیلمٹ  یا تو پچھلے والے بندے کو پکڑا دیاجاتا ہے یا سائیڈ پہ اس کو لٹکایا جاتا ہے جیسے ہی وہ موٹروے پولیس کو دیکھتے ہیں ہیلمٹ فوری طور پر سر پررکھ لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ ایریا کراس کرتے ہیں اس کو سر سے اتار لیتے ہیں مگر شعور ہے کہ جرمانہ نہ ہو اور لاشعوری ہے کہ اس سے مجھے تحفظ ملتا ہے۔  ایک چیز جو انسان کے لیے اس کو تحفظ فراہم کرتی ہے اس کو ہم نے شغل بنا دیا ہے موٹروے پولیس کی شب و روز کی محنت کے بعد اور جرمانہ کرنے کے باوجود بھی ابھی تک موٹرسائیکل سوار اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر ہیلمٹ کی ہماری زندگی میں اس کے کیا مثبت اثرات ہوتے ہیں اگر ہم ہیلمٹ نہ پہننے تو اس کے کیا منفی اثرات ہو سکتے ہیں 50 ہزار کی موٹر سائیکل لے لیتے ہیں مگر ایک ہزار روپے کا ہیلمٹ خریدنا گوارا نہیں کرتے یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ موٹر سائیکل سوار یہ سوچ رکھتا ہے اگر مجھے کسی لمبے سفر پر ہے تو اس کی ضرورت ہے مگر عام حالات میں کم فاصلے پر سفر کے دوران اس کی ضرورت نہیں ۔ مگر موٹر سائیکل سوار  کو ڈرائیو کرنے  سے  پہلے ہی ہیلمٹ کو لینا چاہیے ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺳﻄﺎً 50 سے 60 ﺑﻨﺪﮮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ کے حادثے کے نتیجے میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔ اور 250 سے 300 زخمی ہوتے ہیں۔ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎنے کی کوشش کرتے ہوئے بسیں ٹرک اور کاریں الٹ جاتی ہیں، جس وجہ سے درجنوں افراد زخمی ہوتے ہیں۔ ﻣﺜﻼً ﺍﯾﮏ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ 60 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺳﺎﮐﻦ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﭙﯿﮉ 60 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. اچانک ﺭﮐﺎﻭﭦ، ﺣﺎﺩﺛﮯ، ﺭﺯﺳﭩﻨﺲ ﺍﻭﺭ سپیڈ ﺑﺮیکر ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ 60 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﻓﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﮌﺗﯽ ﮨﮯ، ﻓﻼﺋﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﺳﮑﺎ ﺑﮭﺎﺭیﺣﺼﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺭﺍ ﺣﺼﮧ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﮯ۔ ﺍﺩﮬﺮ ﮨﮉﯼ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮍﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﻧﯽ، ﻟﮩﺬﺍ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺮ ﭨﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ، ﺳﺮ ﭘﺮ ﭼﻮﭦ لگتی ہے نتیجہ ﺑﮯ ﮨﻮشی ﯾﺎ فوری موت ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ زیادہ تر ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﮨﯿﮉ ﺍﻧﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﻏﻠﻂ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﮨﯿﮉ ﺍﻧﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﻠﻤﭧ ﻏﺮﯾﺐ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ، ﻭﮦ 50 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ کیسے خرید لیتے ہیں؟ اس میں 105 روپے لیٹر پٹرول کیسے ڈلواتے ہیں؟ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺮﻣﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟اس بات کی سمجھ نہیں آئی، ﻗﻮﻡ 2 ﮨﺰﺍﺭ ﺟﺮﻣﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ، ﻇﻠﻢ ﮨﮯ۔ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ قبر، ﮐﻔﻦ ﺩﻓﻦ، ﺗﻨﺒﻮ ﻗﻨﺎﺗﯿﮟ، قل کا ختم، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ، ﺳﺎﺕ ﺟﻤﻌﺮﺍﺗﯿﮟ اور ﭼﺎﻟﯿﺴﻮﺍﮞ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ 10 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺍﯾﺴﮯ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ F-16 ﮨﻮ.ﺟﺎﻥ ﺑﮩﺖ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ، ہیلمٹ ﻭﺍﺣﺪ ﺳﯿﻔﭩﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﺮ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﮯ، ﺑﻨﺪﮦ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﺟﮍ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ، ﺍﺱ لئے ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ دو ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﮨﯿﻠﻤﭧ ﺗﻮﮌﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟدکھاوے کی بجائے اپنے داتی تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے اچھے ہلمٹ کا استعمال ضروری ہے خود بھی استعمال کریں اور دوسروں کو مشورہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں