راولپندی : راولپنڈی میں جال بچھاکر بکی کو دھرلیاگیا

راولپنڈی ( سپیشل رپوٹر) راولپنڈی میں جال بچھاکر بکی کو دھرا گیا،پی سی بی کے ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن لیفٹیننٹ کرنل (ر) آصف محمود کا کہنا ہے کہ ہم نے مشکوک شخص کا ایکریڈیشن کارڈ جان بوجھ کر بننے دیا تاکہ اس کیخلاف ثبوت حاصل کرسکیں اور نیٹ ورک کا پتا چلایا جا سکے۔ وہ دبئی میں کسی کے ساتھ رابطے میں تھا، بکی کے کسی کھلاڑی یا بورڈ آفیشل سے تعلق کا ابھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔ تفصیلات کے مطابق پاک جنوبی افریقہ راولپنڈی ٹیسٹ میں  ایک مشکوک شخص کو گراؤنڈ سے پکڑا گیا تھا، وہ موبائل فون پر مسلسل کسی کو میچ کی معلومات دے رہا تھا، اسے بعد میں ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ حیران کن طورپراس شخص کو پی سی بی نے ہی ایکریڈیشن کارڈ جاری کیا تھا، اس حوالے سے صحافی کے استفسار پر ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن لیفٹیننٹ کرنل (ر) آصف محمود نے کہا کہ ہمیں مذکورہ شخص کی مکمل معلومات حاصل تھیں، ہم  چاہتے تو اسے اسٹیڈیم میں داخل ہی نہ ہونے دیتے مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ہم نیٹ ورک تک پہنچنا چاہتے تھے، ثبوت کے حصول کیلیے اسے آنے دیا، ایکریڈیشن کارڈ بھی بننے دیا، اگر پہلے ہی پکڑ لیتے تو وہ معلومات حاصل نہ ہوتیں جو ہمیں ملیں، اس کا دبئی کے کسی شخص سے رابطہ تھا جس کا ہم نے پتا چلا لیا اس سوال پر کہ کیا بکی کا کسی پاکستانی کرکٹر یا پی سی بی آفیشل سے بھی تعلق ہے؟ آصف محمود نے کہا کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا بعد کا کچھ پتا نہیں ہے، اس سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز بھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی اب مشکوک روابط کی اطلاع کرتے ہوئے نہیں جھجکتے ،ہم ان کی معلومات ظاہر نہیں کرتے،اس لیے اعتماد بڑھ گیا ہے، ہمیں مشکوک رابطے کا بتا کروہ اپنی ذمہ داری پوری کردیتے ہیں۔ ہم پھر انھیں بالکل پریشان نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ کھیلوں میں کرپشن روکنے کا قانون جب بن جائے گا تو اس سے ہمیں بڑی مدد ملے گی، جیسے قتل کی سزا موت ہے تو لوگ ڈرتے ہیں، اسی طرح فکسنگ پر جیل اور جرمانے و جائیداد کی ضبطگی کا خطرہ ہو تو بکیز ایسا کرتے ہوئے ڈریں گے،پولیس اور ایف آئی اے کو بھی کارروائی میں مدد ملے گی، آصف محمود نے کہا کہ گوکہ ہمارے پاس کھلاڑیوں کے بینک اکاؤنٹس اورجائیداوں کے بارے میں جاننے کا اختیار نہیں لیکن پھر بھی کوئی غیرمعمولی سرگرمی ہو تو اس کا علم ہو جاتا ہے، شک کی صورت میں ہم خود بھی کسی کرکٹر کا موبائل فون لے کر چیک کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں