میرپور : بیٹوں کو والد کا تا بعدار ہونا چائیے ورنہ چاہتا تو سیاست کر سکتا تھا مگر خاندانوں میں نفرتیں پھیلانے کا عادی نہیں مسلم کانفرنس والوں نے سرینگر والوں پر اعتبار نہیں کیا میرے بارے میں یہ بات کس نے کہی تھی سکندر حیات بتائیں کہ اس کی والدہ سرینگر کی ہے اس لیے اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔راجہ فاروق حیدر خان

میرپور ( سپیشل رپورٹر ) وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ریاست کے لوگ باضمیراور غیرت مند ہیں اگرکوئی یہ سمجھتاہے کہ وہ انھیں خریدے گاتویہ اس کی بھول ہے۔ منظم سیاسی جماعتوں کوکمزور کرنے سے ملک کمزور ہوتاہے۔ فنڈز،لالج یادباؤ سے وفاداریاں خریدنے کاسلسلہ اگر شروع کیاگیاتو یادرکھیں کے ہندوستان کے پاس وسائل بھی زیادہ ہیں اور وہ بڑی قیمت بھی لگاسکتاہے۔ ہمارارائے شماری پرمکمل یقین ہے۔ ہم انتخابات بھی اسی بات پرلڑیں گے کے بھارت ریاست جموں وکشمیرسے نکلے اور یہاں کے لوگ خودریاست کے مستقبل کافیصلہ آزادانہ اورغیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کریں۔ مسلم لیگ ن کاآزادکشمیرمیں قیام ایک ارتقائی عمل تھا مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس کے بعد اپنے نظریات سے ہٹ کر ملٹری ڈیموکریسی جیسی پالیسی کے تابع آچکی تھی اس لیے تاریخ میں بکھرکررہ گئی۔ سابق وزیراعظم سردارسکندرحیات خان بزرگ ہیں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ میرپورکے لوگ قربانی دینے اور سب کوسنبھالنے والے ہیں اپنے اس دورحکومت میں آزادکشمیرکومالیاتی بحران سے نکالا۔ تمام سابقہ حکومتی قرضے واپس کیے۔ فاضل بجٹ پیش کیا۔ میرپورڈویژن کے اضلاع میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 142 بڑے منصوبوں پر49 ارب25 کروڑ سے زائد فنڈز لگائے۔ اعلیٰ عدالتوں میں تقرری چیئرمین کشمیرکونسل کی ذمہ داری ہے۔ ججز کی تعیناتی پرحکومت آزادکشمیر کا کوئی کردار نہیں۔آج بھی ایک خبر لگی ہے اسے بددعا ہی دے سکتا ہوں کہ جس نے جھوٹی خبر لگائی وہ اس کا صلہ پائے۔ججز تعیناتی کامعاملہ جتنی جلدی حل کیاجائے اس سے انصاف کے حصول میں سہولت پیداہوگی۔ میرپورمیں ڈرائی پورٹ کے قیام کے لیے ہوم ورک مکمل کرلیاگیاہے اگلے ماہ میں اس کاسنگ بنیاد رکھاجائے گا۔ ایف بی آر کے حکام اس وقت سائٹ اور دیگرامورکامعائنہ کررہے ہیں۔ وہ یہاں پی ڈبلیوڈی ریسٹ ہاؤس میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پرآزادکشمیرکے سینئروزیر چوہدری طارق فاروق، وزیر پاورڈویلپمنٹ آرگنائزیشن چوہدری رخسار احمد، وزیرزراعت واسماء چوہدری مسعود خالد، وزیرہائیرایجوکیشن کرنل (ر) وقار احمدنور، وزیربہبود آبادی ڈاکٹرمصطفی بشیرعباسی، وزیرسماجی بہبود راجہ جاوید اقبال، سابق وزیرحکومت چوہدری محمدسعید، سابق ممبراسمبلی راجہ مقصود احمدخان، سابق امیدواراسمبلی نذیرانقلابی، سابق امیدواراسمبلی راجہ محمداقبال خان، سابق امیدواراسمبلی ملک محمدیوسف، ایڈمنسٹریٹرضلع کونسل لالہ عبدالمالک، ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن طاہرمحمودمرزا، ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل بھمبر راجہ غلام ربانی، ایڈمنسٹریٹر راجہ ایوب خان، مسلم لیگ ن تحصیل سماہنی کے صدرحاجی راجہ منیراللہ خان، سابق ڈی جی ادارہ ترقیاتی چوہدری اعجازرضا، مسلم یوتھ ونگ کے مرکزی صدر سرداریاسرمنشاء، ملک ذوالفقار،رزاق کشمیری ایڈووکیٹ، راجہ خالد خان ایڈووکیٹ، راجہ ذوالقرنین خان عرف نین، سابق کونسلر رزاق چوہدری کے علاوہ میڈیانمائندگان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعظم آزادکشمیرراجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیرکے عوام کا بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے ساتھ وعدہ ہے اور ہم اس وعدے کوہرصورت مکمل کریں گے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے آزادکشمیرمیں نظریاتی افراتفری پھیلانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایسے اقدامات استحکام کو ضرب پہنچاتے ہیں۔ ہمارے خطے میں اس نظریاتی افراتفری کی کوئی گنجائش نہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم نے بلاتخصیص عوام کی خدمت کی دنیابھرمیں مسئلہ کشمیرکواجاگرکیا۔ ہماراآئندہ الیکشن میں یہی منشورہوگا اور ہم انتخابات ہندوستان سے آزادی اور ایک آزادانہ غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے نقطہ پرلڑیں گے۔ آزادکشمیرمیں ایکٹ 1974 کے بعد معائد ہ کراچی بے اثر ہوکررہ گیاہے۔ تمام ریاستی معاملات کواسی آئین میں درج کردیاگیاہے اور اب حکومتی معاملات آئین اور رولز آف بزنس کے تحت سرانجام دیے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم مستعار الخدمتی افسران کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن وہ آزادجموں وکشمیرمیں سربراہ حکومت کی رضامندی کے بعدہی تبدیل ہوتے ہیں۔ اس کامقصد حکومتی امورمیں بہتری اور سہولت لاناہے۔ وہ آزادکشمیرحکومت کوجواب دہ ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ بھارتی فائرنگ نے ہمارے سرحدی علاقوں کے انفراسٹرکچرکوتباہ کیا۔ ہم نے اس کی بحالی کامنصوبہ تیار کرلیاہے۔ ساڑھے 3 ارب روپے 11 حلقوں کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری ہوچکے ہیں ہم نے نہ صرف عوام کی سہولت کومدنظررکھا بلکہ اپنے دفاع کوبھی مضبوط بنایا۔ دوسرے مرحلے میں باقی مانندہ کام کوپوراکریں گے۔ انھوں نے کہاکہ ہم نے ترقیاتی امور میں جنوب کوسب سے زیادہ اہمیت دی۔ یہاں 49 ارب25 کروڑ کے منصوبوں پرکام کیاجن میں بھمبرمیں 44 منصوبوں پر 12 ارب 71 کروڑ روپے، میرپورمیں 47 منصوبوں پر15ارب 54 کروڑ روپے جبکہ کوٹلی میں 51 منصوبوں پر21 ارب روپے کے اخراجات کیے۔ میرپور میں باقی مانندہ شہرمیں سوئی گیس کی فراہمی کے لیے 74 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ معاملہ اب سوئی گیس حکام کے پاس ہے اگرانھوں نے اس کی منظوری نہ بھی دی تو ہم اپنے فنڈزسے فوری اس منصوبے کومکمل کریں گے۔ رٹھوعہ ہریام برج میں دلدلی زمین کی وجہ سے جودشواری آئی ہے اس کوحل کرنے کے لیے آزادکشمیر کے سابق اہل سیکرٹری چوہدری میرافضل کی سربراہی میں کمیٹی بنادی ہے جو جلد چین کادورہ کرکے اس منصوبے کومکمل کرے۔ انھوں نے کہاکہ میرپوراورڈڈیال میں پانی کی کمی کامسئلہ کے مستقل حل کے لیے گریٹرواٹرسپلائی سکیم کے لیے 50 کروڑ مختص کردیے ہیں ان سکیموں کی تکمیل سے ان علاقوں میں پانی کی کمی کامسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ انھوں نے کہاکہ 2005 کے زلزلہ میں حکومت پاکستان نے غیرملکی ڈونرکانفرنس بلائی اور وہاں کے متاثرین کواپنے پاؤں پرکھڑاکروانے میں مددددی جبکہ 2019 کے میرپورکے زلزلہ میں ابھی تک ہمارے بنائے گئے پیکج پرکوئی پیش رفت نہیں کی گئی اور یہ سرد خانے کاشکارہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے الٹاہمارے نارمل بجٹ کے ہمارے 15 ارب روپے روک لیے۔ ہماری بار بار کی تحریک پرصرف 2 ارب روپے جاری کیے گئے۔ اگریہ ہمارے حصہ کے 13 ارب روپے جاری کردیتے تو بھی ہم اپنے زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے امداری رقوم جاری کرسکتے ہیں اورہمارے سرکاری ملازمین کے جوجائز مطالبات ہیں ان کوبھی پوراکرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کی طرف سے بروقت زلزلہ متاثرین کے لیے فنڈز نہ جاری ہونے پرہم نے اپنے ترقیاتی بجٹ سے 1000 ملین کے فنڈز کھڑی شریف روڈ اور نہراپرجہلم کے دوپلوں کی تعمیرنوکے لیے مختص کیے جس سے ہماری معمول کے بجٹ پرشدید دباؤپڑا۔ انھوں نے کہاکہ میری تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ میرپورمیں کثیرالمنزلہ عمارتیں نہ بنائیں صرف دومنزلہ عمارتیں بلڈنگ کوڈز کے مطابق ہی بنائیں۔بلڈنگ کوڈز کاجلد نفاذ کیاجارہاہے۔ انھوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم سکندرحیات خان سب کے بزرگ ہیں قابل احترام ہیں، میں وضع دار آدمی ہیں ان کی کسی بات پرتبصرہ نہیں کرسکتاالبتہ یہ ضرور کہوں گاکہ میرے والد محترم اور والدہ محترمہ اور خود میں نے ساری زندگی ایمانداری اور رواداری سے گزاری ہے۔ میرا نہ کوئی بنک بیلنس ہے اور نہ ہی لمبی چوڑی جائیدادیں ہیں۔ ساری زندگی میں صرف ایک مکان بمشکل سے بناسکاہوں۔ سردارسکندرحیات کے نواز شریف کے بارے میں بیان سے دکھ ہواہے۔ انھوں نے کہاکہ مسلم کانفرنس اپنے نظریات سے بھٹکی ہوئی جماعت ہے۔مسلم کانفرنس ریاستی جماعت نہیں بلکہ چھوٹے لیول کے افسر کے ماتحت ہمیشہ سے رہی ہے اب سچ نہ نکلوائیں۔سردار عتیق کا بیان سکندر صاحب کو یاد ہوگا جس میں انھوں نے کس کے بارے میں کہا تھا کہ فوج میں قانون تھا کہ 70سال بعد بوڑھے کو گولی مار دی جاتی ہے سکندر حیات خان کی اولاد کو کہا ہے کہ آپ کے خاندان میں پھوٹ نہیں ڈالنا چاہتا بیٹوں کو والد کا تا بعدار ہونا چائیے ورنہ چاہتا تو سیاست کر سکتا تھا مگر خاندانوں میں نفرتیں پھیلانے کا عادی نہیں۔مسلم کانفرنس والوں نے سرینگر والوں پر اعتبار نہیں کیا میرے بار ے میں یہ بات کس نے کہی تھی سکندر حیات بتائیں کہ اس کی والدہ سرینگر کی ہے اس لیے اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔مسلم کانفرنس بنیادی جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے خلاف کام کررہی ہے۔ چوہدری غلام عباس کے بعد یہ جماعت اب ختم ہوکررہ گئی ہے۔ انھوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کے ساتھ آزادجموں وکشمیرمیں کوئی انتخابی اتحاد نہیں ہوا۔ پاکستان میں ضمنی انتخاب کی حد تک اتحاد تھا۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیرمیں اپنی کارکردگی اورمنشور کی بناپرنہ صرف انتخابات لڑے گی بلکہ اسے جیت کربھی دکھائے گی۔ ہم پرامن آزادانہ اورغیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھارہے ہیں۔ آزادکشمیرمیں مسلم لیگ ن ایک ارتقائی عمل سے معرض وجود میں آئی ہے ہماری پارٹی یہاں منظم ہے اورہم متحدہیں۔ ہم نے یہاں کے عوام کوسہولت تعلیم اور حقوق دیئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ پراپرٹی کے معاملات کاجائزہ لے رہے ہیں۔ ٹیکسوں کوکم کرکے اسے دیگرصوبوں کے برابرلارہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہمارے پاس اراضی بھی موجود ہے اور فنڈز بھی دستیاب ہیں۔ میں میرپورسے متاثرین منگلاڈیم،متاثرین زلزلہ اور ذیلی کنبہ جات کولغت سے ہی ختم کرکے دم لونگا۔ سینئرممبربورڈ آف ریونیواس پرکام کررہے ہیں۔ ہم قربانی دینے والے شہریوں کو عزت سے ان کاحق دیں گے اور انھیں بحال کرکے دم لیں گے۔ راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہاکہ اگرچہ میں کوٹہ کے خلاف ہوں اوراہلیت پریقین رکھتاہوں لیکن یہ کیونکہ آئینی معاملہ ہے اس لیے من وعن اس پرعمل کیاجارہاہے۔ ایڈھاک ملازمین کی سول سرونٹ ایکٹ میں گنجائش موجود ہے اور ان کی تقرری قانونی تقاضوں کوپوراکرکے ہی عمل میں لائی جارہی ہیں۔ سیاسی کارکن اگر قانون کے تحت مقررہ معیار پرپورااترتے ہیں تو وہ بھی تقرری کے اہل ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم نے آئین میں ترمیم کرکے ریاست کومالی طورپرخود کفیل کیا۔ اسمبلی کوبااختیار بنایا۔ غیرقانونی مداخلت ختم کی اور ریاستی وسائل کی لوٹ مارہمیشہ کے لیے ختم کردی۔ ریاست کے عوام غیوراور سمجھدار ہیں اگرکوئی یہ سمجھتاہے کہ انھیں خرید سکے گاتو یہ اس کی بھول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں