حیدرآباد دکن : بھارت میں نرس نے جعلی کورونا ویکسین لگا کر بزرگ جوڑے کو لوٹ لیا

حیدرآباد دکن ( انٹرنیشنل ڈیسک ) بھارتی ریاست حیدرآباد میں ایک نرس نے کورونا ویکسین کی جگہ بے ہوشی کا انجکشن دے کر بزرگ جوڑے کو لوٹ لیا خبروں کے مطابق، ہفتہ 13 فروری کی شام للیتھا نگر کے 80 سالہ کے لکشمن اور ان کی 70 سالہ بیوی کستوری نے مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ لکھوائی کہ ان کے پڑوس میں رہنے والی ایک نرس نے انہیں کورونا ویکسین کے نام پر بے ہوشی کا انجکشن دے کر ان کا سونا اور زیورات چوری کرلیے۔ انوشا نامی ملزمہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ایک پرائیویٹ کالج سے مڈوائف کا کورس کر رہی ہے جبکہ قریبی اسپتال میں نرس کا کام بھی کررہی ہے۔ ہفتے کی صبح اس نے لکشمن اور کستوری سے کہا کہ وہ خاص کےلیے کورونا ویکسین کا بندوبست کردے گی اور سہ پہر میں ان کے گھر آکر خود ہی انہیں یہ ویکسین بھی لگا دے گی۔ وعدے کے مطابق وہ ہفتے کو سہ پہر تین بجے اس بزرگ جوڑے کے گھر پہنچ گئی اور انہیں بتایا کہ ویکسین لگنے کے بعد کچھ دیر کےلیے انہیں غنودگی محسوس ہوگی لیکن گھبرانا نہیں۔ پڑوسی ہونے کے ناتے ان دونوں میاں بیوی نے انوشا کا بھروسہ کرلیا اور اس سے ویکسین لگوا لی جس کے کچھ دیر بعد ہی وہ دونوں بے ہوش ہوگئی۔ تقریباً تین گھنٹے بے ہوشی کے بعد جب اس بزرگ جوڑے کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ ان کے گھر میں رکھا ہوا تمام زیور اور سونا چوری ہوچکا ہے جبکہ نرس کا کچھ اتا پتا نہیں۔ اس پر انہوں نے فوراً ہی پولیس کو فون کیا اور انوشا کے خلاف رپورٹ بھی درج کروائی۔ ’’جب میں جاگی تو میرا منگل سوتر، سونے کی انگوٹھی، کان کی بالیاں اور دوسرا زیور غائب تھا جو کُل ملا کر تقریباً آٹھ تولے جتنا تھا،‘‘ کستوری نے پولیس کو بتایا مقامی پولیس نے اگلے ہی روز نرس اور اس کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔ دورانِ تفتیش اس نوجوان جوڑے نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کورونا ویکسین کی جگہ بزرگ جوڑے کو بے ہوشی کی دوا کا انجکشن لگایا تھا؛ اور جب وہ بے ہوش ہوگئے تو دونوں نے یہ واردات انجام دی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنے مالی مسائل کی وجہ سے وہ سخت پریشان تھے بزرگ جوڑے کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے جانتے تھے کہ گھر میں صرف لکشمن اور کستوری ہی رہتے ہیں۔ جان پہچان کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے یہ سارا منصوبہ بنایا اور واردات کرنے کے فوراً بعد ہی ایک اور علاقے میں منتقل ہوگئے تاکہ پکڑے نہ جاسکیں، لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ اس واقعے کے بعد سے بھارتی پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ نجی طور پر کورونا ویکسین کا انتظام کرنے والے کسی بھی فرد پر بھروسہ نہ کریں کیونکہ یہ ویکسین بازار میں عام دستیاب نہیں جبکہ صرف صحت کے سرکاری ادارے اور ان سے تعلق رکھنے والے مخصوص افراد ہی، خاص طریقہ کار کے تحت، کورونا ویکسین لگانے کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی ایسا فرد یہ پیشکش لے کر آئے کہ وہ ’’نجی طور پر‘‘ ان کےلیے کورونا ویکسین کا بندوبست کردے گا، تو وہ فوری طور پر اس کی اطلاع پولیس کو دیں کیونکہ یہ کوئی جعل ساز یا نوسرباز ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی کورونا ویکسین فی الحال صرف اسی طبّی عملے کو لگائی جارہی ہے جو اس وبا کے خلاف فرنٹ لائن ورکر کے طور پر کام کررہا ہے۔ بزرگوں اور عام شہریوں کےلیے کورونا ویکسین کا مرحلہ اس کے بعد شروع ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں