مظفر آباد : سوشل میڈیا پر معلومات کی تیزرفتار ٹریفک کسی صورت مین سٹریم میڈیا کی اہمیت کو ختم نہیں کرسکتی ناظرین و قارئین ابھی بھی مصدقہ اطلاع کی مین سٹریم میڈا پر ہی اعتماد کرتے ہیں۔مظفرآباد میں ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور سینٹرل پریس کلب کے زیر اہتمام مرکزی ایوان صحافت میں منعقدہ تقریب سے مقررین کا خطاب

مظفرآباد( نمائندہ خصوصی ) سوشل میڈیا پر معلومات کی تیزرفتار ٹریفک کسی صورت مین سٹریم میڈیا کی اہمیت کو ختم نہیں کرسکتی۔ناظرین و قارئین ابھی بھی مصدقہ اطلاع کی مین سٹریم میڈا پر ہی اعتماد کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر باقاعدہ نشریات دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن یہ ٹرینڈ صحافت کو تبدیل نہیں کر رہا بلکہ اطلاعات کی تیز رفتار ٹریفک میں ایک مزید تہہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ان خیالات کااظہار گزشتہ روز ٹی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور سینٹرل پریس کلب کے زیر اہتمام مرکزی ایوان صحافت میں منعقدہ تربیتی نشست کے دوران مقررین نے کیا۔مظفرآباد آزادکشمیر کے سینئر صحافیوں اور یونیورسٹی آف آزادجموں وکشمیر ماس کمیونیکیشن کے طلبہ نے تربیتی نشست میں شرکت کی۔ نشست کا مقصد دور حاضر کے چیلنجز کے مطابق صحافتی فیلڈ میں کام کرنیوالے اور نئے آنے والے صحافیوں کی استعداد کار بڑھانا ہے۔ مقررین نے مزید کہاکہ موجودہ دور میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کی ہیڈ لائنز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہیکہ انٹرنیٹ میڈیا کتنا متاثر کن ہوتا جارہا ہے۔ اگر چہ ترقی یفتہ ممالک میں نئی صدی کے پہلے عشرے کے اختتام تک بہ صرف اس کو محسوس کر لیا گیا تھا بلکہ اس کے مثبت انداز سے استعمال کی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی تھی جبکہ ہمارے ہاں کی روائتی کوتاہ بینی نہ صرف اس کو ابھی تک محسوس بھی نہیں کر سکی بلکہ منصوبہ سازوں سمیت تمام سوسائٹی بے سمت اسی رو میں بہتی جارہی ہے یو ٹیوب‘ فیس بک اور ٹوئٹر نے خبروں کی ترسیل سے نشر واشاعت تک ہر چیز کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک طرف اخباروں کے فرنٹ پیج اور ٹیلی ویژن کی ہیڈ لائینز انٹرنیٹ کے استعمال سے اعلیٰ اور فوری فوٹوز اور ویڈیو فوٹیجز استعمال کر کے رائے عامہ پر اثر انداز ہورہے ہیں تو دوسری جانب ایڈیٹوریل اور تبصروں پر فوری بلاکز نے پورے ابلاغ عامہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ سب صحافت کے لئے نئی حدود اور نئی راہوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کس طرح مین سٹریم میڈیا رائے عامہ کی اثر پذیری کو ایک مخصوص مرکز سے عام لوگوں کی انفرادی دسترس تک پہنچتا دیکھ کی اپنی اہمیت اور پر اثر کردار کا تعین کرتا ہے؟ ایک اہم موضوع یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کس طرح صاحبان رائے صحافی اپنا تحقیقاتی کام یا“سٹوری ٹیلنگ”کو”پارٹی سپیٹری میڈیا”پر لانچ کرتے اور اس کا فوری اور براہ راست رد عمل اپنے ناظرین یا قارئین سے لیتے ہیں؟ یہ یقینا ایک نیا تجربہ ہے جو ذرا سی بھی بے احتیاطی کا متحمل نہیں سکتا۔اس میں بڑی تعداد میں ہر طرح کی ذہنی معیار سوچ و فکر کے آڈیئنز کو شامل کرنا بذات خود ایک بڑا قدم ہے۔ ہمارے ہاں تو اس جانب نہ تو کوئی تحقیقاتی کام ہے اور نہ کوئی پالیسی جبکہ برطانیہ میں گزشتہ سال کی ایک سٹڈی بتاتی ہے کہ پینتالیس ملین لوگ صرف برطانیہ میں سوشل میڈیا پرہوتے ہیں جو آبادی کا چھیاسٹھ فیصد بنتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ تعداد تقریباً سترہ سے بیس فیصد کی درمیان ہے جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی پچہتر فیصد سے زائد تعداد سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے یعنی پارٹی“سپیٹری ماس کمیونی کیشن“ کی پہنچ پاکستان کے سینتیس ملین کے لگ بھگ لوگوں تک موجود ہے۔ البتہ کورونا سے پہلے یعنی دوہزار انیس میں یہ تعداد صرف دو اعشاریہ سات ملین تھی‘تاہم یورپ اور امریکہ میں نہ صرف یہ تناسب کہیں زیادہ ہے۔ بلکہ انٹر نیٹ کے استعمال کا رویہ بھی ہمارے ہاں بہت مختلف ہے کیوں کہ وہاں انٹرنیٹ کی پانچویں جنریشن وارد ہونے کو ہے اور ہم ابھی اس سے بہت دور ہیں۔ یہ سارے سنیریو میں بریکنگ نیوز کا سارا کنسپٹ ہی تبدیل کردیا ہے۔ نیوز ایڈیٹر پر بوجھ اور ذمہ داری اتنی بڑھ گئی ہیکہ خبر کی درستی اور تصدیق کے بغیر نشر کرنا چھوٹے بچے کا منہ میں دھکتا انگارہ ڈالنے کے مترادف ہے ترقیافتہ ممالک میں بریکنگ نیوز کا ٹرینڈ تقریبا ختم ہو چکا ہے اور یہ سب بڑی نیوز آرگنائزیشن نے خود کیا ہے یہ سب آزاد اور معیارات خود پر خود لاگو کئے گئے ہیں کسی حکومت کی جانب سے مثبت نیوز ڈائریکٹوز کے تحت یہ کام نہیں ہوا یہی وجہ ہے دنیا بھر میں مین سٹریم میڈیا آرگنائزیشنز باقاعدہ اپنے اصل نام اور کام کے ساتھ سوشل میڈیا پر آچکی ہیں۔ سوشل میڈیا ایڈیٹر اور ٹوئٹر کارسپانڈنٹ اپائنٹ ہو رہے ہیں ٹریننگ ہو رہی ہے اوئیرنس پروگرام جاری ہیں اور سوشل میڈیا پر باقاعدہ نشریات دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن یاد رہے یہ ٹرینڈ صحافت کو تبدیل نہیں کر رہا بلکہ اطلاعات کی تیز رفتار ٹریفک میں ایک مزید تہہ کا اضافہ ہو گیا ہے ابھی بھی آڈینز فلٹرڈ اور مصدقہ اطلاع کی مین سٹریم میڈا پر ہی اعتماد کرتے ہیں یا ایک قلیل تعداد ایسی بھی ہے جودوست فیملی ممبرکی جانب سے تجویز کردہ ویب پیجز پر اعتبار کرنے کو راضی ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔تربیتی نشست کے اختتام پر اس طرح کی مزید نشستوں کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں