لاہور : گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ؛ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بڑھنے کا امکان

لاہور ( کامرس رپورٹر) وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گندم کی امددی قیمت بڑھا کر 1800روپے مقرر کرنے کی منظوری سے پنجاب حکومت گندم خریداری کے بڑے بحران سے بچ گئی تاہم گزشتہ برس کے مقابلے امسال کسانوں کو گندم کی قیمت 400 روپے فی من زیادہ ملے گی۔ آئندہ چند روز میں محکمہ خوراک کی جانب سے فلورملز کو فروخت کی جانے والی گندم کی قیمت میں متوقع اضافے اور گندم سے آٹا نکالنے کی شرح میں تبدیلی کی وجہ سے 20 کلو آٹا تھیلا کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے، وزیراعظم کے حکم پر 100 کلو گندم میں سے 80  کلو آٹا کی تیاری سے سفید آٹا کی ہول ویٹ آٹا میں تبدیلی سے شہری صارفین کو روٹی کے ذائقہ اور غذائیت میں تبدیلی سے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ چیئرمین فلورملز ایسوسی ایشن نے آٹا غذائیت بارے وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عوام 75 تا80  روپے فی کلو میں چکی والا آٹا (ہول ویٹ) خرید رہے ہیں لیکن اب فلورملز 50 روپے فی کلو میں یہی آٹا عوام کو مہیا کرنے کو تیار ہیں لیکن اس کیلیے حکومت بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلائے۔ چند ماہ قبل جب سندھ کی جانب سے قیمت 2 ہزار روپے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت پنجاب اور خیبر پختونخواہ کیلیے گندم کی امدادی قیمت خرید 1400سے بڑھا کر 1650روپے مقرر کی تھی تب ہی صوبائی حکومت اور کسان حلقوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے قیمت 1800روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی صدارت میں اسمبلی نے قرارداد بھی منظور کی تھی۔ محکمہ خوراک نے واضح کردیا تھا کہ 1650 روپے میں سرکاری خریداری اہداف کی تکمیل نہایت مشکل ہو جائے گی بالخصوص اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا، محکمہ خوراک پنجاب آٹا قیمت کو کم رکھنے کی خاطر 1400 روپے میں خریدی اور 2300 روپے میں امپورٹ کی جانے والی گندم فلورملز کو 1475روپے میں فروخت کر رہا ہے۔ امدادی قیمت میں اضافہ اور گندم سے آٹا تیار کرنے کی شرح 70  سے بڑھا کر 80 فیصد کرنے کی وجہ سے اسے نہ صرف سرکاری گندم کی قیمت فروخت بڑھانا ہو گی بلکہ فلور ملز بھی اب مزید دباؤ برداشت نہیں کریں گی کیونکہ ماضی میں سینئر وزیر علیم خان اور سیکرٹری و ڈائریکٹر فوڈ عہدے کے افسروں کی درخواست پر انہوں نے آٹا قیمت بڑھانے سے اس لئے خود کو روکا تھا کیونکہ 70 فیصد آٹا اور30  فیصد میدہ فائن چوکر کی شرح کے سبب ان کے پاس تھوڑا مارجن موجود تھا لیکن اب 80  اور 20 کی شرح کے بعد ملز کیلیے موجودہ قیمت پر آٹا سپلائی کرنا ممکن نہیں ہوگا اور خدشہ ہے کہ حکومت نے درمیانی راستہ نہ نکالا تو آٹا قلت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پنجاب فلورملز ایسوسی ایشن عاصم رضا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے آٹا غذائیت بارے جو بیان دیا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ہم تو طویل عرصہ سے حکومت کو یہ پیشکش کر رہے تھے کہ ہم عوام کو 50 روپے کلو قیمت پر ہول ویٹ(دیسی آٹا) فروخت کرنے کو تیار ہیں جو چکی مالکان 80 روپے میں فروخت کر رہے ہیں، سفید آٹا ہم اس لئے بناتے ہیں کہ عوام کی ڈیمانڈ ہے اب اگر حکومت ہول ویٹ آٹا کی آگاہی مہم شروع کرنا چاہتی ہے تو فلور ملنگ انڈسٹری ان کے ساتھ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں