ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور حکومتی لوٹ مار : تحریر ؛ ڈاکٹر تصدق حسین

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کرپشن کے خلاف بیانئے کی بنیاد پر 2018ء کا الیکشن لڑا اور پورے ملک کے طول و عرض میں شہر شہر بستی بستی قریہ قریہ نگر نگر ایک ہی ڈھنڈھورا پیٹتے رہے کہ ملک کو سابقہ حکمرانوں کی کرپشن نے برباد کردیا ہے۔ عوام کو یہ بتاتے رہے کہ حکمرانوں کی اسی کرپشن اور لوٹ مار کی قیمت عوام مہنگائی اور غیر ملکی قرضوں کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ اور یہ کہ سالانہ ہزاروں ارب کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے نتیجے میں ملکی معیشت کھوکھلی یوگئی ہے ۔ ملک قرضوں کے پہاڑ تلے دب گیا ہے۔
2018ء کے الیکشن میں کچھ نادیدہ قوتوں کی مہربانی سے خان صاحب اقتدار پہ مسلط کئے گئے تو عوام کو اپنے پہلے خطاب میں 90 دن کے اندر ملک کو کرپشن سے پاک کرنے اور غیر ملکی قرضے اتارنے کی نوید سنائی اور قسم اٹھائی کہ وہ باہر کی دنیا سے قرضے لینے پر خود کشی کرنے کو ترجیح دیں گے۔ عوام کو روزگار اور سسستی اشیائے ضرورت مہیا کریں گے۔ انصاف کا بول بالا ہوگا۔ لوٹی ہوئی رقم واپس قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ ٹیکس کلیکشن میں اصلاحات کرکے ٹیکس کا مجموعی حجم بڑھا کر بجٹ خسارے پر قابو پایا جائے گا۔
عوام کے لئے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر تعمیر ہوں گے۔ غرض بے شمار لمبی لمبی چھوڑی گئیں۔
مگر بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خان صاحب کی اصلیت سامنے آنا شروع ہوگئی۔ خان صاحب کی نالائقی کے قصے اور لوٹ مار کی داستانیں زبان زد عام ہوتی گئیں۔ خان صاحب نے مشورہ دیا کہ نوکریوں کی بجائے کاروباری کی طرف دھیان دو اور سکون کی تلاش میں سرگرداں عوام سے کہا کہ سکون تو صرف قبر میں ملتا ہے۔ نصف دور حکومت ہوائی قلعے تعمیر کرنے میں گزر گیا۔
مگر ٹیکس کا حجم پچھلی حکومت کے 4000 ارب روپے کا نمبر کو ابھی تک نہیں چھو سکا ۔ معاشی نمو 5 فیصد سے گر کر منفی میں چلا گیا ہے۔ ملکی قرضوں میں صرف 2 سال مں 11000 ارب روہے کا اضافہ ہوگیا۔ یہی اضافہ پچھلی حکومت نے 5 سال میں کیا حالانکہ ہزاروں کلومیٹر کے موٹر ویز بنائے، ہزاروں میگا واٹ کے بجلی کے نئے کارخانے لگائے۔ روپیہ ڈالر کے مقابلے میں لاغر ہوگیا۔ ڈالر 103 روپے سے بڑھ کر 170 پہ چلا گیا۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا عفریت لوگوں کو ہڑپ کررہا ہے۔
کرپشن کے خلاف نعرے لگانے والے خلیفہ صاحب کے خلاف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ایک چارج شیٹ ہے۔ ان فرشتوں نے لوٹ مار اور قومی خزانے کو ہڑپ کرنے میں پچھلی چور حکومتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ موجودہ پاکیزہ حکومت کے دو سالہ دور میں ملک کرپشن میں مزید 7 درجے ترقی کرگیا ماشاء اللہ۔ یہ پاکستانی تاریخ کی سب سے فراڈ اور ڈھکوسلا حکومت ہے جو چور چور کا نعرہ لگا کر ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔
خان صاحب کے زیر شفقت 500 ارب روپے کی ڈکیتی صرف آٹا اور چینی کی مد میں لگائی گئی۔ 122 ارب روپے کا ڈاکہ پٹرولیم اور ایل این جی کی مد میں لگایا گیا۔ دوائیوں کی مد میں سینکڑوں ارب کا ڈاکہ لگانے والا عامر کیانی اور ڈاکٹر ظفر کو این آر او دے دیا گیا۔ اربوں روہے براڈ شیٹ کمپنی کو دے دئیے گئے۔
باوجود اس کے کہ اپوزیشن کے سارے راہنما جیلوں میں ہیں۔ خان صاحب کے بقول اب فرشتے برسر اقتدار ہیں لہذا ہزاروں ارب کی منی لانڈرنگ تو رک گئی ہے مگر کرپشن پھر بھی بڑھ رہی ہے۔ بے شرمی اور ڈھیٹائی کی حد دیکھیں کہ اب بھی حکومتی ترجمان اس حکومتی لوٹ مار کا دفاع کررہے ہیں۔
مگر فکر کی کوئی بات نہیں ہمارے وزیراعظم صاحب باوجود سینکڑوں ارب کی لوٹ کھسوٹ اور ڈکیتی کے ایماندار ہی رہیں گے بشرطیہ کہ جب تک تابعدار رہیں گے۔ کون کہتا ہے خان صاحب کو سیاست نہیں آتی۔ یہ سب سے بڑی سیاست ہے کہ خان صاحب نے اتنی بھد اڑائی ، اتنی گرد اٹھائی اور چور چور کا نعرہ لگا کر دوسروں پہ کیچڑ اچھال کر خود خاموشی سے لوٹ مار میں لگ گئے۔
عوام الناس ! ذرا سوچیئے ،سمجھیئے اور جانیئے کہ کون کون آپ کے ملک کو لوٹنے اور آپ اور آپ کی نسلوں کو قرضوں تلے دبانے میں مصروف عمل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں