شنگھائی : شام سے پہلے کچھ دیر کا قیلولہ دماغ کےلیے مفید ہے، تحقیق

شنگھائی ( بین الاقوامی ہیلتھ ڈیسک ) چینی ماہرین نے دو ہزار سے زائد عمر رسیدہ افراد پر تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ سہ پہر میں کچھ دیر قیلولہ کرنے سے دماغی صحت بہتر رہتی ہے اور مختلف ذہنی امراض کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ تحقیقی مجلے ’’جنرل سائکیٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، چینی سائنسدانوں نے اپنے مطالعے میں ایسے 2,241 مقامی رضاکار شریک کیے جن کی عمریں 60 سال یا زیادہ تھیں۔ رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروپ نے سہ پہر میں، یعنی شام سے پہلے، نیند لی تھی جبکہ دوسرے گروپ میں شامل رضاکار جاگتے رہے تھے۔ مطالعے کے دوران مختلف ذہنی آزمائشوں کے ذریعے ان لوگوں کی ذہنی صلاحیتیں بھی جانچی گئیں۔ آزمائشوں کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ سہ پہر میں آدھا گھنٹہ یا اس سے کچھ کم وقت کےلیے سوئے تھے، ان کی مجموعی دماغی صحت، نیند نہ لینے والے افراد کے مقابلے میں واضح طور پر بہتر تھی۔ بہتر دماغی صحت کی ظاہری علامات میں فعال یادداشت (ورکنگ میموری)، بول چال میں روانی اور اپنے مقام سے آگاہی (لوکیشن اویئرنیس) جیسے پہلوؤں کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق میں ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جو افراد سہ پہر میں تقریباً روزانہ 30 منٹ یا اس سے کچھ کم وقت کےلیے قیلولہ کررہے تھے، ان میں ’الزائیمرز‘ نامی دماغی بیماری کا خطرہ بھی اس وقفے میں قیلولہ نہ کرنے والے بزرگوں کے مقابلے میں 84 فیصد تک کم تھا۔ واضح رہے کہ ’الزائیمر کی بیماری‘ (الزائیمرز ڈِزیز) ایک ایسا دماغی مرض ہے جس میں یادداشت اور سوچنے کی صلاحیتیں بتدریج ختم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ عموماً 60 سے 65 سال کی عمر میں لاحق ہونے والی یہ بیماری ناقابلِ علاج ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً ’الزائیمرز‘ سے متاثرہ شخص مزید کئی خطرناک دماغی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے جن میں ’ڈیمنشیا‘ جیسا خطرناک اور جان لیوا مرض بھی شامل ہے۔ البتہ، سائنسدانوں کے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ سہ پہر میں دو گھنٹے یا اس سے زیادہ دیر تک قیلولہ کرتے ہیں، انہیں دماغی امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ فی الحال یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے کہ سہ پہر میں مختصر قیلولے کے یہی اثرات ادھیڑ عمر اور جوان افراد پر بھی مرتب ہوتے ہیں یا نہیں۔ بّی ماہرین کا اس بات پر عمومی اتفاق ہے کہ اگر دن کے اوقات میں متوازن طور پر قیلولہ کرلیا جائے تو اس سے دماغی صحت بہتر رہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں