سلیکان ویلی : کیا مائیکروسافٹ مُردوں کو ’زندہ‘ کرنا چاہتا ہے؟

سلیکان ویلی (بین الاقوامی سائنس و ٹیکنالوجی ڈیسک ) ہوسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں آپ اپنے کمپیوٹر پر ایسے افراد سے بھی گفتگو کرسکیں گے جنہیں اس دنیا سے گئے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں۔ مائیکروسافٹ کا نیا الگورتھم اسی خیال کو حقیقت میں بدلنے کی جانب ایک قدم ہے۔مائیکروسافٹ کارپوریشن نے گزشتہ ماہ (دسمبر 2020 میں) ایک ایسا الگورتھم پیٹنٹ کرانے کی درخواست دی ہے جو کسی بھی چیٹ بوٹ (chatbot) کو زندہ یا مُردہ انسانوں کے انداز میں تحریری تبادلہ خیال کرنے کے قابل بنائے گا۔واضح رہے کہ ’چیٹ بوٹ‘ ایسے خودکار سافٹ ویئر ہوتے ہیں جو خودکار طور پر تحریری تبادلہ خیال (chatting) کرتے ہیں۔ مثلاً کسی کمپنی کا چیٹ بوٹ، جو صارفین کے تحریری سوالوں کے خودکار انداز میں جواب دیتا ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مائیکروسافٹ ان ہی چیٹ بوٹس کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید ترقی دے کر زیادہ حقیقی اور زیادہ ’انسان نما‘ بنانے کا خواہش مند ہے۔مائیکروسافٹ کا نیا الگورتھم استعمال کرنے والا چیٹ بوٹ کسی شخص کی سوشل میڈیا پوسٹس، تبصروں، تحریروں (بشمول ٹویٹس)، ویڈیوز اور اسی طرح کا دیگر مواد استعمال کرتے ہوئے اس کی ’شخصیت‘ سے واقف ہوگا؛ اور پھر خودکار انداز میں اس کی ہوبہو نقل کرتے ہوئے دوسروں سے چیٹنگ کرے گا۔اس طرح یہاں تک ممکن ہے کہ یہ چیٹ بوٹ جس شخص کا روپ دھارے وہ اس دنیا میں نہ رہا ہو بلکہ صرف اس کی ’سوشل میڈیا باقیات‘ ہی انٹرنیٹ پر رہ گئی ہوں۔علاوہ ازیں، یہ چیٹ بوٹ مشہور شخصیات کی جگہ لے کر ان کے ہزاروں مداحوں سے چوبیس گھنٹے تحریری گفتگو کرتا رہے اور انہیں احساس بھی نہ ہو کہ وہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے ایک سافٹ ویئر (چیٹ بوٹ) سے باتیں کررہے ہیں۔اگرچہ مائیکروسافٹ میں مصنوعی ذہانت کے جنرل مینیجر ٹم اوبرائن نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اس الگورتھم کو کسی میسنجر میں یا چیٹ بوٹ کی تخلیق میں استعمال کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں لیکن الگورتھم کی موجودگی اپنے آپ میں یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسے کسی بھی وقت، خاموشی سے یا اعلانیہ، خودکار چیٹ بوٹ کا حصہ بنایا جاسکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں