ہٹیاں بالا : ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں راجہ محمد فاروق حیدر خان کی کارکردگی سے کوئی بھی مطمن نہیں ہے موجودہ حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم تو قرار دے دیا گیا لیکن اس کے باوجود قادیانی تمام اسلامی اصطلاعات استعمال کر رہے ہیں۔جے یو آئی کے ڈویژنل صدرمولانا پروفیسر الطاف صدیقی کا چناری میں پریس کانفرنس سے خطاب

ہٹیاں بالا ( نمائندہ خصوصی ) جمعیت علماءاسلام جموں و کشمیر مظفرآباد ڈویژن کے امیر ،وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کے مدمقابل جے یو آئی کے نامزد امیدوار مولانا پروفیسر الطاف حسین صدیقی نے راجہ محمد فاروق حیدر خان کی ساڑھے چار سالہ دور اقتدار کی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے جلد گھر گھر انتخابی مہم شروع کرنے اور تقسیم کشمیر کی سازشوں کے خلاف سات فروری کو کنیناں سے لائن آف کنٹرول چکوٹھی تک مجلس علماءحق کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی کا اعلان کر دیا۔یہ اعلان راجہ فاروق حیدر خان کے مد مقابل جے یو آئی جموں و کشمیر کے نامزدامیدوار مولانا پروفیسر الطاف حسین صدیقی نے جامع مسجد امام اعظم ابو حنیفہ چناری میں سابق ضلعی امیر مولانا فرید احمد اور دیگر علماءکرام کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانھوں نے کہا کہ ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں راجہ محمد فاروق حیدر خان کی کارکردگی سے کوئی بھی مطمن نہیں ہے موجودہ حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم تو قرار دے دیا گیا لیکن اس کے باوجود قادیانی تمام اسلامی اصطلاعات استعمال کر رہے ہیں وہ اپنے آپکو مسلمان ظاہر کرتے ہیںوہ عبادت کے لیے مساجد بنا رہے ہیں وہ اپنا نام اسلامی رکھ رہے ہیںووٹر لسٹوں میں مرزائیوں کو الگ شمار نہیں کیا جا رہا ہے حال ہی میں موجودہ حکومت کی جانب سے دیے جانے والے تعلیمی پیکج میں بہت سی خامیاں موجود ہیںکئی ایسے تعلیمی ادارہ جات ہیں جن میں طلباءکی تعداد سنگل فگر ہیں انھیں مڈل کا درجہ دے دیا گیا جبکہ بعض مڈل تعلیمی ادارہ جات ایسے بھی ہیں جہاں سٹاف نہ ہونے کے برابر ہے ان ادارہ جات کو ہائی کا درجہ دے دیا گیا آزاد کشمیر میں محکمہ تعلیم کا معیار دن بدن گر رہا ہے اسکی بنیادی وجہ محکمہ تعلیم میں سیاست کا عمل دخل ہے میرٹ اور این ٹی ایس محکمہ تعلیم میں رکھا گیا ہے محکمہ تعلیم میں چند ایک مثالوں کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں تقرر،تبادلہ جات میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا آبائی ضلع آزاد کشمیر بھر میں واحد ضلع ہے جہاں حکومت نے پوسٹ گریجویٹ کالج نہیں دیاضلع جہلم ویلی کے ساتھ آج تک کسی نے بھی مساوات نہیں کی آزاد کشمیر میں زکوة کانظام بھی بری طرح ناکام ہو چکا ہے سال میں ایک یا دو مرتبہ زکوة کی تقسیم سے تو غریب شخص کے ایک ماہ کا خرچہ بھی چلنا ممکن نہیں ہے حکمران بتائیں ہر سال زکوة کی مد میں اتنی زیادہ آمد ن ہوتی ہے زکوة کی رقم کدھر جاتی ہے زکوة وصول کرنے والوں کی تنخواہیں لاکھوں اور ہزاروں میں ہیں اور جن مستحقین کے لیے زکوة وصول کی جاتی ہیں انھیں زکوة معمولی سی دی جاتی ہے جس سے وہ ایک ماہ کا خرچہ بھی نہیں چلا سکتے ہیںمولا نا الطاف صدیقی نے مزید کہا کہ2021ءکے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جمعیت علماءاسلام نے مجھے حلقہ نمبر چھ جہلم ویلی میں امیدوار نامزد کیا ہے کسی کے حق میں دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں ہے بھر پور طریقے سے الیکشن میں حصہ لینے کا ارداہ ہے منشور اور دستور کے ساتھ ایک نیالائحہ عمل لیکر عوام کے پاس جائیں گے ہم الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے سیاست میں آنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ سیاست میں علماءکو آنا شجرہ ممنوعہ تصور کیا جا رہا ہے اب سیاست تجارت بن چکی ہے بدنام ہو چکی ہے اس لیے سیاست میں کوئی بھی دین دار شخص اپنے آپکو اس لیے نہیں لارہا کہ اس میں کرپشن لوٹ گھسوٹ کا بازار گرم ہے لیکن ہمارے نزدیک سیاست بھی اسلام کا ایک شعبہ ہے سیاست عبادت ،عوام کی خدمت اور سیاست وہ راستہ ہے جس پر چل کر کے آپ قانون ساز ادارے میں پہنچ کر قانون سازی اور عوام کی خدمت کر سکتے ہیںقانون ساز اسمبلی میں ایسے لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے جو دینی سوچ کے حامل ہواور ملکی قانون کو وہ اسلامی قانون میںڈھالنے کے لیے کوشاں ہوعمران خان کی حکومت آنے کے بعد کشمیر کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثےیت ختم کرنے کے بعد بھارت نے مکمل قبضہ کر لیا ہے بھارت کی حکومت نے 370ختم کر کے جو کردار ادا کیا اسی طرح کا کردار عمران خان نے بھی گلگت کو صوبہ بنا کر ادا کیا جو قابل قبول نہیں ہے اقوام متحدہ نے بھی آج تک کشمیری عوام کو انکا حق خود ارادیت دلانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے نااہل ثابت ہوئی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مراعات لے رہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے انکی کارکردگی صفر ہے کشمیری عوام کی قر بانیوں کا کسی کو سودا نہیں کرنے دیں گے جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے وہ اپنے بنیادی حق خودارایت کے لیے جہدو جہد کرتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں