بیجنگ : ہفتے میں آدھا پاؤ تلی ہوئی چیزیں بھی دل کےلیے خطرناک ہیں، تحقیق

بیجنگ ( بین الاقوامی ہیلتھ ڈیسک ) چینی ماہرین نے ایک تفصیلی تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ جو لوگ ہفتے میں صرف 4 اونس (114 گرام) تلی ہوئی چیزیں بھی کھاتے ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ 12 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ماضی کی طبّی تحقیقات سے تلی ہوئی چیزیں کھانے کا موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سے تعلق ثابت ہوچکا ہے، تاہم یہ پہلی تحقیق ہے جس میں تلے ہوئے کھانوں کے دل کی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔تحقیق کی غرض سے چینی طبّی ماہرین نے 23 وسیع مطالعات کا ڈیٹا استعمال کیا جو مجموعی طور پر 13 لاکھ سے زیادہ افراد سے حاصل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 562,445 افراد اور دل کےلیے نقصان کا باعث بننے والے36727 واقعات پر مشتمل 17 مطالعات کا جائزہ لے کر تلے ہوئے کھانوں اور دل کی خرابیوں میں تعلق کا جائزہ لیا گیا۔دیگر 6 مطالعات کا ڈیٹا استعمال کرکے، تلے ہوئے کھانوں اور اموات کے مابین تعلق معلوم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان مطالعات میں 754,873 رضاکار شریک تھے جبکہ 85,906 اموات ریکارڈ کی گئیں۔اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ تلی ہوئی چیزیں بہت زیادہ کھاتے ہیں، ان میں ایسی چیزیں کم کھانے والوں کے مقابلے میں دل کی سنجیدہ تکالیف کا خطرہ 28 فیصد، دل اور شریانوں کے امراض کا خطرہ 22 فیصد، جبکہ دل کے دورے کا خطرہ 37 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔اسی تجزیئے میں ماہرین نے دریافت کیا کہ پورے ہفتے کے دوران تلی ہوئی غذا کی مقدار میں ہر 4 اونس (تقریباً آدھا پاؤ) اضافے کے ساتھ حرکتِ قلب بند ہونے کے خطرے میں 12 فیصد، دل کے دورے کے خدشے میں 3 فیصد اور امراضِ قلب کے خطرے میں 2 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔البتہ تلی ہوئی چیزیں کھانے اور دل کی کسی بھی بیماری سے موت کے درمیان تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔طبّی مجلے ’’ہارٹ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کو حرفِ آخر نہ سمجھا جائے کیونکہ اس کا انحصار ماضی میں کیے گئے مطالعات پر تھا؛ جبکہ دورانِ تجزیہ ان پرانے مطالعات میں کئی حوالوں سے ادھورا پن بھی سامنے آیا ہے جسے مزید تحقیق میں ختم کرنے اور بہتر مطالعات ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں