معرکہ امروہہ اورتاتاریوں کاعبرتناک انجام ؛ از قلم : ملک ظفر اقبال

۔#1286ء میں سُطان غیاث الدین بلبن کا انتقال ہوا تو تقریباََ نو سال کے لئے تخت دہلی خرافاتیوں کے ہاتھ کا کھلونا بن کر رہ گیا، 1295ء میں #علاؤالدین_خلجی تخت نشین ہوا تو تاتاریوں نے فل سکیل جنگ چھیڑنے کے لئے سلطنت دہلی پر پے درپے حملے شروع کردئے تاکہ نئے سلطان کو جمنے کا موقع ہی نہ ملے، لیکن خلجی کو بلبن کی کھڑی کی ہوئی #چار_لاکھ_ستر_ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایسی فوج میسر تھی جسکے ستر ہزار سپاہی صرف دہلی میں موجود تھے، علاؤالدین خلجی نے چار حملوں میں تو دفاع کی مروجہ حکمت عملی اختیار کی لیکن جب دیکھا کہ تاتاری باز نہیں آرہے تو پھر اسنے وہ کیا جو #چنگیز_خان کیا کرتا تھا، اسنے انتظار کیا جیسے ہی پانچواں حملہ ہوا اسنے اپنے جرنیل #ظفر_خان کو دھشت کے ریکارڈ قائم کرنے کا حکم دیا کہ تاتاری یہی زبان بولنے اور سمجھنے کے عادی تھے، ظفر خان کی فوج نے زخمیوں کو بھی نہ بخشا میدان جنگ میں ایک ایسا قتل عام کیا کہ اسکے بعد سمرقند میں بھی جب کوئی تاتاری گھوڑا تالاب سے پانی پیئے بغیر منہ موڑ لیتا تو سوار اس سے کہتا “کیا ہوا تم نے پانی میں ظفرخان کا عکس تو نہیں دیکھ لیا ؟”۔۔۔ ظفر خان نے دسمبر 1305ء ہونے والے #معرکہ_امروہہ میں #منگول_کمانڈرعلی_بیگ اور #ترتاق سمیت آٹھ ہزار تاتاری سپاہی گرفتار کئے اور انہیں دہلی لایا، یہ منظر دیکھنے کے لئے پورا دہلی نکل آیا تھا، علاؤالدین خلجی نے ان تمام کو محل کے سامنے ذبح کروایا، کہا جاتا ہے کہ ان دنوں سری کا قلعہ زیر تعمیر تھا، یہ آٹھ ہزار تاتاری سر اس قلعے کے مینار میں اینٹوں کے ساتھ استعمال کئے گئے، چھٹا حملہ خود خلجی کی فوج نے کیا جسنے غزنی تک جا کر بچے کھچے تاتاریوں کا صفایا کیا۔ معرکہ عین الجالوت کے بعد یہ وہ فیصلہ کُن جنگ ہے جس میں منگولوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا اور منگول اپنے انجام کو پہنچے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں