مظفر آباد : حکومت پاکستان وفاقی محصولات میں آزادکشمیر کےلئے مختص حصے کے مطابق 15ارب روپے مزید ادا کرے تو آٹے کی سبسڈی،ملازمین کی تنخواہوں سمیت دیگر تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان

مظفر آباد ( نمائندہ خصوصی ) وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی تین کمیٹیوں کا ہندوستان کی جانب سے چیئرمین بنایا جانا خطرناک ہے ، ہندوستان پاکستان کے خلاف سازش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، وزارت خارجہ کو اس حوالے سے موثر و متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ اپوزیشن کے خلاف بیانات دینے کے بجائے ساری توانائیاں سفارتی محاذ پر لگائیں ۔ آزادکشمیر میں آٹے پر 2ارب روپے کی سبسڈی دی جاچکی ہے ،گندم کا کوٹہ کم ہونے کے باعث مسائل کا سامنا ہوا ، ابھی بھی آزادکشمیر کا آٹا پاکستان سے سستا ہے۔پاکستان سے آزادکشمیر آنے والے راستوں کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دینگے ۔ مظاہرین نے ایک میت کے ساتھ آنے والی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا ، خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو ٹارگٹ کیا گیا اور سرکاری املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری ملازمین اگر بلاوجہ ہڑتال کرینگے توبے شمار پڑھے لکھے بیروزگار لوگ باہر انتظار میں ہیں۔ تعلیمی پیکج عوامی ضروریات ، طلبہ کی تعداد ور جغرافیائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے اپ گریڈ کیے گئے ، اس کا پہلا فیز ہوا ہے اور دوسرا بھی آئے گا ، ماضی میں جس طرح سے وزراءاور ارباب اختیار بھرتیو ں کی فہرستیں دیتے تھے یہ سلسلہ ہم نے ختم کر دیا۔لائن آف کنٹرول پر ایل او سی پیکج کےلئے افواج پاکستان کے شکرگزار ہیں ، حکومت پاکستان وفاقی محصولات میں آزادکشمیر کےلئے مختص حصے کے مطابق 15ارب روپے مزید ادا کرے تو آٹے کی سبسڈی ، ملازمین کی تنخواہوں سمیت دیگر تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں ، تعلیمی پیکج کے تحت ہونے والی تقرریاں این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونگی۔آزادکشمیر بھر میں پولیس کی تمام بھرتیاں میرٹ پر اور بغیر کسی سیاسی مداخلت کے ہوئی ہیں ، اگر کسی جگہ کوئی خرابی ہوئی تو اس پر متعلقہ ایس پی کے خلاف کارروائی کرینگے ۔ میرے علم میں لایا گیا کہ وزارت داخلہ نے شناختی کارڈ بنانے کےلئے نادرا کی گاڑیاں پی ٹی آئی کے نمائندوں کے توسط سے بھیجیں اور رابطہ نمبر ان کے دیے ، سیاسی جماعتوں کا کوئی کام نہیں کہ اس طرح کے اقدامات اٹھائے ، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو وزارت داخلہ ذمہ دار ہوگی ۔ بحیثیت وزیر اعظم جو اہداف مقرر کیے تھے اللہ کے فضل و کرم اور اس کی نصرت سے وہ حاصل کیے ، آئین میں ترمیم کی ، مالیاتی خودمختاری حاصل کی ، کشمیر کونسل کے اختیارات کا خاتمہ ، ترقیاتی بجٹ دوگنا کیا ، ختم نبوت کو آزادکشمیر کے آئین کا حصہ بنایا ، این ٹی اور پی ایس سی کے ذریعے میرٹ پر لوگوں کو روزگار دیا اور پالیسی کے تحت ترقیاتی منصوبے شروع کیے ۔ لینٹ آفیسران کی تاعمر مراعات ختم کیں ،ان کو وہی الاﺅنس دیے ہیں جو دیگر صوبہ جات میں حاصل ہیں ۔ کچھ عناصر اپنے مخصوص مقاصد اور خطہ میں انتشا ر پھیلانے کے لیے آٹا مہنگا کے نام پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آئندہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔ گلگت بلتستان والا ڈرامہ نہیں ہونے دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں