لاہور : 14 سالہ سائبر کڈ کا ایک اور کارنامہ، 50 فیصد تک ایندھن بچانے والا گیزر تیار کرلیا

لاہور  ( سائنس و ٹیکنالوجی رپورتر) 14 سالہ سائبر کڈ محمد ہزیر اعوان نے موبائل فون کی مدد سے آپریٹ کئے جانے والا گیزر تیار کیا ہے جس سے توانائی کے استعمال میں 50 فیصد تک بچت کی جاسکے گی۔ہزیر اعوان نے بتایا کہ یہ آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگز) گیزر ہے۔ جس کو چلانے کے لئے گیس کے علاوہ انٹرنیٹ کی بھی ضرورت ہوگی۔ گیزر کے ساتھ 2 سینسرزاستعمال کئے گئے ہیں، ایک الیکٹرانک شعلہ پیدا کرتا ہے اور گیس کنٹرول کرتا ہے جب کہ دوسرا سینسر درجہ حرارت کنٹرول کرتا ہے۔ پانی کا درجہ حرارت مطلوبہ سطح تک پہنچنے کے بعد گیزر بند ہوجائے گا اور پانی ٹھنڈا ہونے پردوبارہ آن ہوجائں گا۔ مارکیٹ میں موجود گیزر کا پائلٹ ہروقت آن رہتا ہے لیکن آئی اوٹی گیزرمیں ایسا نہیں ہوگا۔اس سے توانائی کی بچت ہوگی۔ہزیر کے مطابق اس پربہت کم خرچہ آیا ہے اوراس کی تیاری میں تمام حفاظتی پہلوؤں کو یقینی بنایا گیا ہے،انہوں نے یہ پراجیکٹ تجرباتی طور پر تیار کیا ہے تاہم اسے کمرشل بنیادوں پر بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔یہ ہونہار بچہ اب تک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں مہارت کے حوالے سے درجنوں ایوارڈ اور میڈل جیت چکا ہے۔ 7 برس کی عمرمیں ہزیر نے دنیا کے کم عمرترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزازحاصل کرکے ارفع کریم کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ اسی طرح وہ مائیکرو سافٹ آئی ٹی پروفیشنل اور یونیسیف کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکا ہے۔ہزیر کا کہنا ہے میرا بنیادی کام اورشوق ربورٹس تیار کرنا ہے، میں اب تک کئی پراجیکٹ مکمل کرچکا ہوں جس میں ڈرائیورلیس کار بھی ہے جو چلتے ہوئے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو خود سینسر کرکے اپنا راستہ بناسکتی ہے، اپنی رفتار کنٹرول کرسکتی ہے۔ اسی طرح ہوم آٹومیشن پرکام کیا ہے آپ آفس میں بیٹھ کر گھرمیں چلنے والی الیکٹرانک اشیا کو آن آف کرسکتے ہیں۔ اسی طرح کار ٹریکر تیار کرچکا ہوں۔ ایک ہینڈ شیک ربورٹ بھی بنا چکا ہوں جو آپ سے ہاتھ ملاتا اور خود اپنا تعارف کرواتا ہے۔ اگر حکومت باصلاحیت بچوں کو مواقع اوروسائل مہیاکرے تو وہ آئی ٹی کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔یونیسیف چیمپیئن سائبرکڈ محمد ہزیر اعوان نے کوویڈ 19 کے دوران اپنے گھر میں ہی ایک ایسا گیزر تیارکیا ہے جسے آپ موبائل فون کی مدد سے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے گوگل پلے اسٹور میں پہلے سے موجود ایک ایپ انسٹال کرنا پڑتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں