اسلام آباد: بجلی کی فراہمی میں فالٹ کیوں آیا؟معلوم نہیں،تحقیقات جاری ہیں،عمرایوب

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی ) وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا ہے کہ فالٹ کا آغاز گدو پاور پلانٹ سے شروع ہوا، جس نے ایک سیکنڈ میں ملک کے پورے سسٹم کو متاثر کیا۔ بجلی کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ فالٹ کی وجہ کیا تھی، وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ کے الیکٹرک کو 400میگاواٹ بجلی کی سپلائی شروع کردی ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ گدو پاور پلانٹ میں فالٹ سے فریکوئنسی ایک سیکنڈ کے اندر اندر ملک بھر میں ڈراپ ہوئی۔ بریک آوٹ کی وجہ سے ملک کے مختلف علاقوں میں 10 ہزار 302 میگاواٹ کی فراہمی معطل ہوئی۔ تربیلا کو 2 بار اسٹارٹ کیا، آئیسکو، لیسکو، فیسکو میں بحالی جاری ہے۔ وزیرِ پاور ڈویژن عمر ایوب نے بتایا کہ ملتان شہر میں بھی بجلی کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ کراچی میں 400 میگاواٹ بجلی کی سپلائی بحال کردی گئی ہے۔ ملک بھر میں مکمل بحالی میں چند گھنٹے مزید لگیں گے۔ حتمی ٹائم نہیں بتا سکتا۔ اس طرح کے واقعات دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتے ہیں۔ عمر ایوب نے کہا کہ بلیک آؤٹ کی صورت میں رسپانس سسٹم کتنا بہتر ہے یہ اہم ہے، فالٹ پورے ملک کےپلانٹس میں نہیں آیا تھا، ایک مخصوص علاقےمیں آیا، بجلی کاسسٹم اس وقت اسٹیبل ہے، تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے لائیں گے۔ بریک ڈاؤن میں آنے والی خرابی سے متعلق وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ فالٹ کہاں پر آیا؟ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا۔ دھند کی وجہ سے فالٹ کے بارے میں پتا نہیں چل رہا تھا، جب کہ اندھیرے کی وجہ سے بھی بحالی کے کام میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، فالٹ کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ کے دور میں 18 سے ساڑھے 18 ہزار واٹ ترسیل کا نظام تھا، اب تک سسٹم میں خرابی کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ ن لیگ کے دور میں اس طرح کے 8 واقعات ہوئے تھے۔ بجلی کی ٹرانسمیشن کو مزید بہتر کریں گے، بجلی کے ترسیلی نظام پر حکومت سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ وزیرِ توانائی نے یہ بھی بتایا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کو صورتِ حال سے آگاہ کر دیا تھا، انہوں نےبجلی جلد بحال کرنے کی ہدایت کی تھی، ایک مخصوص جگہ پر بجلی کی فریکونسی کم ہوئی جس کی وجہ سے پورے سسٹم نے خود کو شٹ ڈاؤن کرنا شروع کر دیا، پشاور ویلی میں بجلی کے شعبے میں 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ بجلی کی ترسیل کے نظام میں جدت نہ آنے سے بجلی کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بجلی کی ترسیل کے نظام کو اپ گریڈ نہ کرنے سے مسائل پیدا ہوئے۔ موجودہ حکومت بجلی کے ترسیل کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کیلئےاقدامات کر رہی ہے۔ گزشتہ رات بجلی کے بریک ڈاؤن سے ملک بھر میں بجلی کی فراہمی میں تعطل آیا۔ ماضی کی حکومتوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے پر توجہ نہیں دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں