ہم تباہی کی جانب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از قلم ؛ نوشین رانا

تحریر ؛ نوشین رانا لیڈی ونگ ڈپٹی بیوروچیف پنجاب الخدمت نیوز صدر الخدمت پریس کلب پاکپتن انچارج انسپیکشن سیل پنجاب روزنامہ جہاں تاب لائٹ نیوز بیوروچیف روزنامہ مسلم ورلڈ صدرپاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹ پاکپتن صدرایمان ویلفیئر سوسائٹی پاکپتن

ﷲ پاک ہم لوگوں کو کن گناہوں کی سزا دے رہا ہے؟ پورے ملک میں ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ سوائے گالیاں اور جھوٹ، لغویات کے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ اسلام آباد کے مہاراجہ اور لاہور کی مہارانی، لاہور کی راجکماری کی سات پشتوں کو گالیوں سے نوازتے ہیں۔ یہ کلچر پچھلے چار سال میں عروج پر پہنچا ہے۔ نہایت بدقسمتی یہ ہے کہ حکمرانِ وقت نے اِس ٹیم کی کپتانی سنبھالی ہوئی ہے۔ اِن لوگوں کی کارکردگی صفر ہے اور زبانیں سو گز لمبی ہیں۔ وزیراعظم صاحب آپ نے عوام سے لاتعداد وعدے کئے تھے؟ آپ کو یاد ہوں گے؟ محترم وزیراعظم صاحب ایک معمولی سے شہری کی حیثیت سے آپ کو چند باتیں یاد دلانا چاہتی ہوں۔ آپ کی اجازت ہے؟ 1۔ آپ نے ڈکٹیٹروں کی سخت مخالفت کی تھی مگر مشرف کے ریفرنڈم میں کھل کر اس کی حمایت کی۔ 2۔ ماضی قریب میں آپ نے کہا تھا کہ IMF سے قرض لینے کے بجائے میں خود کشی کر لوں گا۔ 3۔ آپ نے ایم کیو ایم کو ایجنٹ اور غدّار وطن کہا تھا، وہ اب آپ کے پیارے ساتھی ہیں۔ 4۔ آپ نے شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بنانے کے قابل بھی نہیں سمجھا تھا، انہیں نہایت اہم عہدہ وزارتِ داخلہ دے دی۔ 5۔ آپ کہتے ہیں کہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا، آپ اور آپ کی پارٹی کے کارکنوں کے بعض بیانات جھوٹ پر مبنی نکلے ہیں۔ 6۔ کسی چور کو نہیں چھوڑیں گے۔ چینی، گندم، آٹا کا ذخیرہ اور بلیک میل کرنے والوں کے ساتھ آپ کا رویہ اس کی نفی کرتا ہے۔ 7۔ آپ شکایت کررہے ہیں کہ اپوزیشن جلسے جلوس کرکے ایک منتخب حکومت (وزیراعظم) کو ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ کنٹینروں کی سیاست میں کیا آپ ان کو پھولوں کے ہار پہنارہے تھے؟ آپ نے پوری کوشش کی کہ منتخب وزیراعظم کو غیرجمہوری طریقہ سے ہٹا کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ 8۔ آپ اب اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بحث کے لئے بُلاتے ہیں۔ آپ نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیا تھا وہ آپ بھول گئے ہیں۔ آپ نے ترک صدر کی تقریرکا بائیکاٹ کیا تھا اور ان کی شرافت دیکھئے کہ آپ کو پھر بھی اپنے ملک میں خوش آمدید کہا۔ 9۔ کنٹینروں کے دھرنے کے دوران آپ کی پالیسی کی وجہ سے چینی صدر کو دورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا اور ملک کو بہت نقصان پہنچا۔ 10۔ آپ کے لوگوں نے TV اسٹیشن پر کھلے عام توڑ پھوڑ کی اور پارلیمنٹ کی گِرل ٹرک سے توڑ دی اور پوری کوشش کی گئی کہ منتخب وزیراعظم کے گھر پر حملہ کیا جائے۔ 11۔ آپ نے کھلے عام بجلی کے بل جلائے اور لوگوں کو اُکسایا کہ وہ بل ادا نہ کریں۔ 12۔ آپ نےتارکینِ وطن سے کہا کہ بینکوں کے ذریعہ رقم نہ بھیجیں بلکہ غیرقانونی طور پر ہنڈی کے ذریعہ رقم روانہ کریں۔ کیا یہ چیزیں حُب الوطنی کہلانے کے قابل اور قانونی ہیں؟ 13۔ موجودہ وزیر داخلہ کھلے عام لوگوں کو دعوت دے رہے تھے کہ ملک کو جلادو، توڑ دو۔ 14۔ آپ کے کارکنوں نے ایک شریف ایس پی پولیس پر ڈنڈوں سے تشدد کیا اور وہ یقیناً ہلاک ہوجاتے اگر چند آرمی جوان ان کو نہ بچاتے۔ 15۔ عوام کو یقین ہے کہ حکومت نا اہل ہے۔ 16۔ پوری تاریخ میں اس ملک نے اتنی مہنگائی، اتنی بیروزگاری نہیں دیکھی۔ متوسط طبقہ اب فاقہ کشی پر مجبور ہوگیا ہے، سینکڑوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں ،اُن کوایک سال کا لالی پاپ دیا جاتاہے اور پھر فقیر بنا کر سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 17۔ لاکھوں لوگوں کو بیروزگار اور فاقہ کشی پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اس دور میں معصوم بچیوں اور خواتین کی عصمت دری کرکے قتل کیا جارہا ہے۔ 18۔ وزیراعظم آپ نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو 50 لاکھ مکانات دیں گے اور ایک کروڑ نوکریاں دیں گے جبکہ مکانات تڑوا کر اور لوگوں کو بیروزگار بنا دیاگیا ہے۔ 19۔ گڈگورننس کی گولی نہیں، گولا دیا جارہا ہے۔ مشرف کو بھی یہی گولا دیا گیا تھا۔ اس وقت ملک کا نظام پچھلی تمام حکومتوں سے بدتر ہے۔ کوئی کام نہیں ہوتا۔ وعدے پورے نہیں کئے جاتے۔ 20۔ یہی حال تعلیم کا ہے۔ پولی ٹیکنیک کے ادارےبنا کر آپ لوگوں کو گولی دے رہےہیں کہ دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹی ہے۔ ایسی یونیورسٹیاں انگلینڈ، جرمنی، ہالینڈ، بلجیم، فرانس میں پولی ٹیکنیک کہلاتی ہیں نہ یہاں ریسرچ ہوتی ہے اور نہ ہی یہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے سکتے ہیں۔ امریکہ کے مشہور فلسفی اور سائنسدان نوم چومسکی نے پچھلے دنوں کراچی کی ایک تقریب میں کھل کر کہا کہ اس ملک میں سائنس تباہ کردی گئی ہے اور تعلیمی گروہ آپ کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ 21۔ آپ کے معاونِ خصوصی دن بھر TV پر گالی گلوچ، غیبت میں لگے رہتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے بھاگے پھرتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ملک کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔ ہر شخص وزیر اطلاعات یا آپ کا ترجمان بن بیٹھا ہے۔ ان کو زیب نہیں دیتا کہ اپوزیشن کو گالیاں دیتے رہیں۔ معاملات عدالت پر چھوڑ دیں اور ان کو فیصلہ کرنے دیں۔ 22۔ آپ کی خارجہ پالیسی کے چیتھڑے اُڑ چکے ہیں،کشمیریوں کو ٹوپی ڈرامے نے تباہ کردیا، ان کو سوائے ہندوستانی دہشت گردی اور تشدد کے کچھ نہ ملا اور قوم کا اربوں روپیہ ضائع ہو گیا۔ 23۔ یہ تاثر تقویت پکڑتا جارہا ہے کہ نیب اور اسٹیبلشمنٹ آپ کی پشت پناہی کررہی ہے۔ نیب آپ کے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال رہی کہ وہ شاید فرشتے ہیں اور تمام مجرم دوسری پارٹیوں میں ہیں۔ لوگ کھل کر باتیں کرتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ اور آپ کے خیالات و نظریات میں بہت ہم آہنگی ہے اور پورا فوکس اپوزیشن کو تباہ کرنے پر ہے۔ 24۔ مولانا فضل الرحمٰن کے چند ساتھیوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ بالکل نامناسب ہے۔ یہ عالم ہیں، پڑھے لکھے ہیں اگر اختلافات تھے تو خاموشی سے علیحدہ ہوجاتے۔ اب یہ احساس ہورہا ہے کہ یہ عمل خودغرضی اور مفادپرستی پر مبنی ہے۔ 25 . ۔ کلامِ مجید میں درجنوں جگہ لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گزرے لوگوں کا حال دیکھ کر سبق حاصل کریں، آپ کوئی 50 سال کا پروانہ لے کر نہیں آئے جو وقت لغویات پر صرف کررہے ہیں، وہ نیک کاموں اور عوام کی خدمت پر صرف کریں بلوچستان میں روتی پیٹتی بہنوں بیٹیوں ماوں کےسروں پہ دستِ شفقت رکھیں انصاف دیں ریاستِ مدینہ کے دعوےدارو ریاستِ مدینہ ایسی تو نہ تھی ابھی بھی وقت ہے زندگی کی شمع روشن ہےاپنی کوتاہیوں پہ غور کریں اپنی زمہ داریاں نبھائیں تاکہ اللہ پاک جزائے خیر دے اور رحم کرے۔ آمین۔ یہ چند سطور اللہ کے حکم کی پیروی میں ہیں کہ غلط کام دیکھو تو ضرور توجہ دلاوُ اور اصلاح کرنے کی کوشش کرو! خوش رہیں خوشیاں بانٹیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں