ہوائی : کیا یہ کائنات کی قدیم ترین کہکشاں ہے؟

ہوائی ( انٹرنیشنل سائنس و ٹیکنالوجی ڈیسک ) سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے کائنات کی قدیم ترین کہکشاں دریافت کرلی ہے جو آج سے 13 ارب 40 کروڑ سال پہلے وجود میں آچکی تھی، یعنی بگ بینگ کے صرف 40 کروڑ سال بعد!یہ کہکشاں جسے سائنسدانوں نے ’’جی این – زیڈ 11‘‘ کا نام دیا ہے ’’دُبِّ اکبر‘‘ (Ursa Major) کہلانے والے مشہور آسمانی جھرمٹ کی سمت میں واقع ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ اس کہکشاں سے چلنے والی روشنی ہم تک 13 ارب 40 کروڑ سال میں پہنچی ہے لیکن اس طویل عرصے میں یہ ہم سے اور بھی دُور ہوچکی ہے۔محتاط اندازے کے مطابق، اس وقت یہ کہکشاں ہم سے تقریباً 32 ارب نوری سال دور ہے۔ویسے تو ’’جی این – زیڈ 11‘‘ کو 2016 میں ہبل خلائی دوربین سے دریافت کیا گیا تھا اور تب اس سے آنے والی روشنی میں غیر معمولی ’’سرخ منتقلی‘‘ (ریڈ شفٹ) کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا گیا تھا کہ شاید یہ اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم اور سب سے دور کہکشاں بھی ہے۔البتہ اس خیال کی تصدیق کےلیے مزید تفصیلی اور حساس مشاہدات کی ضرورت تھی جنہیں مکمل ہونے میں مزید تین سال لگ گئے۔سوئٹزرلینڈ، امریکا، چین اور جاپان کے ماہرینِ فلکیات پر مشتمل اس عالمی ٹیم نے امریکی ریاست ہوائی میں ’’کیک‘‘ (Keck) خلائی دوربین کے جدید تر آلات سے اس کہکشاں کا ایک بار پھر تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد تصدیق کی ہے کہ یہ واقعتاً کائنات کی قدیم ترین کہکشاں ہے جو آج تک دریافت ہوئی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق، ہماری کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ کے مقابلے میں ’’جی این – زیڈ 11‘‘ کی جسامت صرف 4 فیصد (25 گنا کم) اور کمیت صرف ایک (1) فیصد جتنی تھی۔ البتہ اس میں ستارے بننے کی رفتار، ملکی وے سے 20 گنا زیادہ تھی۔یہی نہیں بلکہ اس میں ستاروں کی اوسط عمر بھی صرف 4 کروڑ سال تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج سے 13 ارب 40 کروڑ سال پہلے کی اس کہکشاں کے ستارے ہمارے سورج سے دس گنا بھاری (یا پھر اس سے بھی زیادہ ضخیم) رہے ہوں گے۔بات بالکل صاف ہے کہ یہ کہکشاں تقریباً اسی وقت بننا شروع ہوگئی تھی جب کائنات کا سب سے پہلا ستارہ وجود میں آیا تھا۔ اس کا ایک اور مطلب یہ بھی ہے کہ ’’جی این – زیڈ 11‘‘ نے کہکشاؤں کی ابتداء کے بارے میں ہمارے کچھ موجودہ نظریات بھی چیلنج کردیئے ہیں جن پر نظرِ ثانی کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے۔علاوہ ازیں، ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے زیادہ دوری پر کسی کہکشاں کا دریافت ہونا بے حد مشکل ہوگا کیونکہ شاید یہ اس مقام سے بہت قریب ہے جسے ہم ’’قابلِ مشاہدہ کائنات کی حد‘‘ یا ’’کائناتی دیوار‘‘ بھی کہتے ہیں۔نوٹ: یہ تحقیق ریسرچ جرنل ’’نیچر ایسٹرونومی‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں