لاہور : پنجاب میں زمینیں قبضہ کرنے پر50 سے زائدارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی

لاہور ( نمائندہ خصوصی )  پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 50 سے زائد موجودہ اور سابقہ اراکانِ اسمبلی سمیت با اثر قبضہ مافیا کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے مقدمات درج کروا کر تیس تیس سال سے زیر قبضہ اراضی واگزار کروالی ہے۔اس امر کا انکشاف محکمہ اینٹی کرپشن کی طرف سے پنجاب حکومت کو بھجوائی ہوئی رپورٹ میں کیا گیا  ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، منڈی، بہاوالدین، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں سرکاری اراضی پر اراکین اسمبلی نے اپنے عزیز رشتے داروں اور فرنٹ مینوں کے ذریعے قبضے کیے۔محکمہ اینٹی کرپشن کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والوں میں سر فہرست ہے جن کے سابقہ اور موجودہ اراکین اسمبلی اور صوبائی و فاقی وزیروں نے قبضے کیے اور اس اراضی پر  شادی ہال، غیر  قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں،  پٹرول پمپس، فارم ہاوس، کمرشل مارکیٹ، وین بس اسٹینڈ اور سینما گھر بنا رکھے تھے اور سالوں سے کروڑوں روپے ماہانہ کما رہے تھے۔ مجموعی طور پر ان اراکین اسمبلی اور ان کے عزیز رشتے داروں نے  460 ایکڑ 5 ہزار 522 کینال اور 64 مرلے اراضی پر قبضہ کر رکھا تھا۔ اس میں سے زیادہ تر  زرعی اور کمرشل اراضی ہے جو  محکمہ اینٹی کرپشن نے خالی کروائی اور ان پر تمام شواہد کے ساتھ مقدمات درج ہوئے اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔ رپورٹ کے مطابق قبضہ کرنے والے ریوینیو ضلعی و صوبائی حکومت اور مختلف محکموں کے افسران کی ملی بھگت سے اراضی پر قبضہ کر تے تھے۔محکمہ اینٹی کرپشن نے جن موجود اور سابقہ رکن اسمبلی کے خلاف مقدمات درج کرنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی ان میں  ملک سیف الملوک ہو کر، مبشر مبین داود میاں نصیر احمد محمد طارق نصراللہ بشارت رانا مبشر میاں جاوید لطیف،  احسان رضا خان، وسیم اخت،ر غلام دستگیر، محمد قاسم بٹ ، اخلاق بٹ، شیخ ثروت اکرام،  محمد لطیف، مظہر قیوم نارہ،  شہباز احمد چٹھ، ذیشان  زیب بٹ، مختار احمد، خواجہ محمد آصف، بیگم خواجہ آصف، خواجہ آصف کا بیٹا  محمد اسد، اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کارروائی کی۔محکمہ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد  گوھر نفیس کے مطابق سرکاری اراضی پر قبضہ کر نے والوں کے خلاف کارروائی قانون کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور بلا تفریق کارروائی جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو رپورٹ بھجوا دی گئی ہے، کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں