ٹی ایچ کیو ہسپتال دیپالپور کی کالی بھیڑ۔۔۔ از قلم ؛ قاسم علی اوکاڑہ

مجھے پڑھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ میں عمومی طور پر فیس بک پر بھی بہت محتاط ہو کر پوسٹ کرتا ہوں۔ڈاکٹر خضر مون نامی اس بندے کی بد اخلاقی،مریضوں کیساتھ برے رویے اور پیسے لے کر میڈیکل دینے اور رپورٹس کو بدلنے کی پوسٹیں نظر سے گزرتی رہیں مگر رات کو مجھے خود جو مشاہدہ ہوا اس سے پتا چلا کہ اس بندے کے بارے میں آج تک جو سنا اور پڑھا وہ بالکل سچ ہے بلکہ شائد اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ کل ایک بچے کو ہسپتال ایڈمٹ کیا گیا رات اس کی حالت انتہائی خراب ہوگئی یہاں تک کہ اس کی سانس رکنے لگی بچے کا والد بھاگا بھاگا ڈاکٹر خضر کے پاس گیا مگر ڈاکٹر صاحب موبائل میں مصروف تھے۔ میں نے کسی دوست سے نمبر لے کر ان کو کال کر کے بچے کی کنڈیشن بتائی تو انہوں نے پوری بات بھی نہیں سنی اور “اچھا چائے پی کر جاتا ہوں” کہ کر کال بند کردی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب ایمرجنسی کے گرم ہیٹر اور موبائل کی جدائی کہاں برداشت کر سکتے تھے اور بچہ وہیں تڑپتا رہا۔ خیر بچہ ایک گھنٹہ تک اسی طرح موت و حیات کی کشمکش میں رہا ایک گھنٹے بعد میں نے بچے کے والد کو کال کر کے بچے کا احوال پوچھا تو اس نے روتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نہیں آیا اور اب ہم لاہور لے جانے لگے ہیں۔ میں نے دوبارہ ڈاکٹر خضر کو کال کی لیکن وہ دوسری کال پر مصروف تھے اس کے بعد میں نے گیارہ کالز کیں مگر صاحب جی دوسری کال پر مصروف تھے چھبیس منٹ بعد خوش قسمتی سے کال اٹینڈ ہوئی تو یہ ان کے کسی اسسٹنٹ نے اٹھائی میں نے کہا کہ بچے کی حالت انتہائی سیریس ہے میری بات کروا دیں ڈاکٹر صاحب سے یا کم از کم جا کر بچے کو چیک کر لیں تو جواب ملا ڈاکٹر جی اب کھانا کھانے جا رہے ہیں ایک گھنٹہ بعد واپس تشریف لائیں گے۔لیکن اس ایک گھنٹے کے دوران اس بچے کے والدین اسے پرائیویٹ ایمبولینس پر لاہور لے کر جا چکے تھے۔اب وہ بچہ لاہور کے ایک ہسپتال میں ہے اور وہاں کے ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر ٹی ایچ کیو میں کوئی بھی ڈاکٹر بروقت اس کو چیک کر تے ہوئے اس کو لگی خوراک کی نالی کو ایڈجسٹ کردیتا اور پراپر آکسیجن دے دیتا تو اس کو لاہور لانے کی ضرورت نہ تھی اور اس کی حالت بھی اتنی خراب نہ ہوتی۔ پوسٹ کے آخر میں شائد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں وزیراعظم، وزیراعلیٰ،سیکرٹری ہیلتھ یا سی ای او ہیلتھ سے مطالبہ کروں گا کہ اس ڈاکٹر کو ہسپتال سے نکالا جائے اور اس کی پرائیویٹ پریکٹس پر بھی پابندی لگائی جائے،اس کی طرف سے جاری کئے گئے دونمبر میڈیکلز کی انکوائریاں کی جائیں یا اس کے ناروا لب و لہجے پر اس کو سزا دی جائے۔نہیں میں کسی سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کرنے جا رہا کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہونا کیوں کہ ہمارے قانون کے ہاتھ غریب کے گریبان تک تو باآسانی پہنچ جاتے ہیں لیکن کرپٹ عناصر کے سامنے یہی ہاتھ ہر وقت بندھے اور جی حضوری کرتے نظر آتے ہیں ۔ اور جن افسران کے نام میں نے اوپر لکھے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس ڈاکٹر سے یہ پوچھنے کی جرآت نہیں کرسکتا کہ ایمرجنسی وارڈ میں جہاں ہر سیکنڈ کے بعد کوئی انتہائی سیریس مریض آتا ہے تم وہاں آدھا آدھا گھنٹہ فون پر گپیں کیوں مار رہے تھے ؟ کوئی اس سے یہ استفسار نہیں کرسکتا کہ ٹھیک ہے چائے اور کھانا تمھارا حق اور ضرورت ہے لیکن کیا ایک مرتے ہوئے بچے کو بچانے سے تمھارا کھانا پینا زیادہ ضروری تھا ؟ کوئی نہیں پوچھے گا کچھ نہیں ہوگا اس کا ۔ میرا اس پوسٹ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ٹی ایچ کیو دیپالپور میں جہاں ڈاکٹر عادل رشید،ڈاکٹر افضل پراچہ اور ڈاکٹر جاوید اکرم جیسے پروفیشنل اور حقیقی خدمتگار موجود ہیں وہیں ڈاکٹر خضر جیسی کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں جو ڈاکٹری کے نام پر دھبہ ہیں جن کو انسانوں کی زندگیاں بچا کر دعائیں لینا نہیں بلکہ جائز ناجائز طریقے سے اندھا دھند مال اکٹھا کر کے اپنے لئے دوزخ کی آگ کو بھڑکاناہے۔ لہٰذا میری سوشل میڈیا پر ایکٹو بھائیوں سے گزارش ہے کہ اور کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم ان جیسے غیر ذمہ دار اور فرائض سے کوتاہی برتنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ضرور کریں یہ کام آپ اس پوسٹ کو شیئر کے بھی کرسکتے ہیں تاکہ لوگوں کو ایسے عناصر بارے بہتر معلوم ہوسکے اور کسی بیماری کی صورت میں اس جیسے ڈاکٹرز کی بجائے کسی عطائی سے ہی دوائی لے لیں کم از کم وہ آپ کی بات تو پوری توجہ سے سنے گا اور خوش اخلاقی سے پیش آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں