ملک امجد رضا گجر ،ایک ولولہ تازہ دیا جس نے دلوں کو ؛ خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

میں تیرا نام نہ لوں تو بھی سبھی پہچانیں کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے اللہ تبارک و تعالی ا نے علاقہ تھل کو کئی ایک نابغہ ءروزگار شخصیات عطا کی ہیں۔ انہیں عظیم المرتبت شخصیات میں ایک نام عوامی امنگوں کے ترجمان ملک امجد رضا گجر کا ہے ۔ موصوف کی شخصیت ہرگز کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ آپ فخرے تھل جناب جسٹس (ر) کاظم علی ملک کے صاحبزادے ہیں ۔ ایڈووکیٹ ملک امجدرضا بہت اچھے اخلاق اور اعلی ا تعلیم کی حامل شخصیت ہیں۔ ان کی عظیم شخصیت کو اللہ تبارک و تعالی ا نے کئ ایک اوصاف حمیدہ سے سرفراز کیا ہے ۔ملنساری ،عاجزی و انکساری خوش اخلاقی، ہنس مکھی، مونس و غم خواری اور تحمل مزاجی ان کی شخصیت کے خصوصی اوصاف ہیں ۔ ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر روشنیوں کے شہر میں رہنے کے باوجود اپنے اوپرتھل کی مٹی کا قرض نہیں بھولے ۔ان کا دل اپنے علاقہ کی عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔ وہ اپنے علاقہ کو ترقی یافتہ علاقوں کی صف میں لانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ اسی مشن کے تحت ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر تھل ڈویلپمنٹ فورم پی پی 84 کے آرگنائزر کی حیثیت سے اپنے شب و روز عوامی بہبود کے لیے وقف کئے ہوئے ہیں ۔ اپنے علاقے کے مکینوں کو کسی بھی آزمائشی صورتحال کا شکار دیکھ کر وہ لاہور سے اپنے آبائی علاقہ میں پہنچنے میں حتی المقدور کبھی تاخیر نہیں کرتے ، ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر نے کرونائ ایام میں پے درپے اپنے علاقے کا وزٹ کرکے مستحق افراد کی امداد کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ۔ تحصیل نورپورتھل میں ٹڈی دل کی لشکر کشی کے دوران کسانوں کی پریشان حالی کے ازالے اور فصلات کو ٹڈی دل کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے انہوں نےمقامی ارباب بست و کشاد کے ساتھ نہ صرف بھرپور رابطہ رکھا بلکہ اپنے تئیں ضروری وسائل فراہم کرنے کے لیے بھی عملی کردار ادا کیا۔ اللہ تبارک و تعالی ا نے ملک امجد رضا گجر کو معاشرے کے غریب ،متوسط، نادار اور لاچار طبقے کے ساتھ انس و محبت رکھنے اور ان کے عملی طور پر کام آنے کا شرف بھی عطا کیا ہوا ہے ۔ دکھی انسانیت کی خدمت کو ملک امجد رضا اپنی عظمت گردانتے ہیں ۔ حال ہی میں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے رنگپور بگھور کے دو یتیم اور ذہنی معذوری کے حامل مفلوک الحال بھائیوں محمدنواز عرف نازو ار عطامحمد عرف اتو جو کہ اس شدید سرد موسم میں اپنی چھت سے محروم تھے اور رات بھر کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتے رہتے تھے ان کے لیے مکان کی تعمیر سمیت دیگر ضروری معاونت کے لیے عزم صمیم کا اظہار کرکے مجبور اور بے بس انسانیت کی خدمت کی ایک روشن مثال قائم کی ہے ۔ گویا کہ ملک امجدرضاگجر کا یہ عظیم مشن اس شعر کا آئینہ دار ہے

خدمت خلق کے واسطے پیدا کیا انساں کو

ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں