گجرات : تھانہ اے ڈویزن کی حدود سے چوری ہونیوالا موبائل درخواست گزار نے خود ہی ٹریس کروالیا،موبائل دکانداروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ، تفتیشی افسر نے موبائل کی برآمدگی کے بعد درخواست دوبارہ داخل دفتر کردی

گجرات (کرائم رپورٹر) تھانہ اے ڈویزن کی حدود سے چوری ہونیوالے موبائل کی لوکیشن دکاندار نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹریس کروا لی،تفتیشی افسر کی جانب سے دوبارہ درخواست داخل دفتر ، موبائل دکانداروں کے ملوث ہونے کا انکشاف

تفصیلات کے مطابق تھانہ اے ڈویزن گجرات کی حدود میں واقع پختون چپل ،شاہ حسین روڈ پر گذشتہ برس کے آخری مہینے دسمبر کی سرد رات میں دو افراد نامعلوم گاہک بن کر آئے جن میں سے ایک ٹانگ خراب ہونے کی وجہ سے لنگڑا کر چل سکتا تھا نے ایک جوڑی جوتے کی خریدی اور 1 ہزار روپے کا نوٹ دکاندار حافظ محمد مجتبیٰ کو دیا کھلے پیسے نہ ہونے کے سبب دکاندار نے پڑوسی دکاندار سے 1 سو روپے ادھار لیکر ان نامعلوم گاہکوں کو واپس کئے اور وہ اسپیڈ کے ساتھ پیسے لیتے ہی موٹر سائیکل پر رفو چکر ہوگئے جس کے فوری بعد دکاندار حافظ محمد مجتبیٰ نے چارجنگ پر لگائے گئے موبائل والی جگہ پر دیکھا تو موبائل غائب تھا اسی اثناء میں پوری چپل مارکیٹ میں موبائل چوری کی اطلاع ہر دکاندار کو مل گئی اور دکاندار حافظ محمد مجتبیٰ نے فوری طور پر تھانہ اے ڈویزن میں موبائل اوپو ایف 7 کی چوری کی درخواست دائر کردی جوکہ متعلقہ تھانہ کے اے ایس آئی مقصود احمد کو مارک ہوئی اور بناء کسی بھی قسم کی تفتیش کے تفتیشی کی جانب سے یہ لکھ کر کہ درخواست گزار خود ہی اپنا موبائل ٹریس کروا کر تھانہ میں اطلاع دے گا درخواست کو داخل دفتر کردیا اس کے بعد درخواست گزار نے اپنے طورپر ڈیلی جستجو آن لائن اخبار سے رابطہ کیا اور تمام تر واقعہ بارے آگاہ کیا جس پر ادارہ ڈیلی جستجو نے اپنے ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے آئی ای ایم ای نمبرز کے ذرئعے موبائل کی لوکیشن ٹریس کروائی اس تفصیل کو دکاندار نے تھانہ اے ڈویزن کے اے ایس آئی مقصود احمد سے شیئر کیا تو مقصود احمد نے دوبارہ درخواست دائر کرنے کیلئے کہا جس پر دکاندار حافظ محمد مجتبیٰ نے دوبارہ درخواست معہ موبائل استعمال کرنے والے کا نام ، ولدیت ، شناختی کارڈ نمبر اور علاقہ دوبارہ فرنٹ ڈیسک پر جمع کروا دی درخواست دیئے جانے کے ٹھیک تیسرے روز دی گئی تفصیلات کے مطابق موبائل برآمد کرکے تفتیشی اے ایس آئی مقصود احمد نے درخواست کے مطابق کی گئی کاروائی کی رپورٹ تحریر کرنے کے بجائے اس رپورٹ کے ساتھ کہ ریحان علی ولد مستنصر منیر سکنہ بغداد کالونی لاہور گیا ہوا ہے اور جلد ہی واپس آجائے گا دوبارہ درخواست کو داخل دفتر کردیا ۔ یاد رہے کہ اس دی گئی دوسری درخواست کو داخل دفتر کرنے کیلئے جو رپورٹ بنائی گئی وہ سراسر جھوٹ اور تفتیشی کی بددیانتی پر مبنی تھی کیونکہ اس رپورٹ سے قبل تفتیشی اے ایس آئی مقصود احمد ریحان علی ولد مستنصر منیر سے اوپو ایف 7 برآمد کرنے کے ساتھ یہ بھی معلومات اکٹھی کرچکا تھا کہ ریحان علی ولد مستنصر منیر نے موبائل رامتلائی روڈ گجرات پر واقع موبائل شاپ سے خریدا تھا جس کا نام بھی ریحان علی ولد مستنصر منیر نے تفتیشی کو بتادیا تھا تاہم تفتیشی نے بدنیتی کی بنیاد پر نہ صرف مزید کاروائی کو آگے بڑھانے سے گریز کیا بلکہ درخواست کو بھی داخل دفتر کردیا جب مزید کاروائی کے لئے کہا گیا تو فرنٹ ڈیسک پر موجود کمپیوٹر آپریٹر نے کہا کہ مزید کاروائی کیلئے اب آپ کو مزید درخواست دینا ہوگی وریں اثناء ایک بے گناہ نشئی کو ملزم ثابت کرنے کی ناکام کوشش ضرور کی گئی جو اس چوری کو گمشدگی کا ناکام ڈرامہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتا رہا تاہم جب اس سے اصل ھقائق پوچھے گئے تو اس کا کوئی بھی بیان درست ثابت نہیں ہوا جس سے کہ یہ تصدیق ہوسکتی کہ اصل مجرم وہی ہے ۔ دکاندار حافظ محمد مجتبیٰ جس کا موبائل اوپو ایف 7 چوری ہوا نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، آئی جی پولیس پنجاب ، ڈی پی او گجرات سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ اے ایس آئی مقصود احمد کو دو مرتبہ درخواست ازخود داخل دفتر کرنے اور اصل ملزمان تک پہنچنے سے گریزکرنے اور چوروں کو گرفتار کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کی بجائے تحفظ فراہم کرنے پر سخت قانونی کاروائی کرتے ہوئے سائل دکاندار حافظ محمد مجتبیٰ کا چوری شدہ موبائل اوپو ایف 7 اصل حالت میں واپس دلوایا جائے نیز چوری کی اس واردات میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں