اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان کی ذیر صدارت وزارت بحری امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس۔

وزیر اعظم عمران خان کی ذیر صدارت وزارت بحری امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس۔

اسلام آباد ( خصوص رپورٹ ) وزیر اعظم عمران خان کی ذیر صدارت وزارت بحری امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیر مواصلات مراد سعید، وزیر برائے صنعت محمد حماد اظہر، وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی، مشیر وزیر اعظم ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر وزیر اعظم عبدالرزاق داؤد ، معاون خصوصی لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری اور سینیئر افسران اجلاس میں شریک تھے۔ وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے اجلاس کو وزارت کی گذشتہ 22 ماہ کی کارکردگی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ورثے میں ملنے والے مسائل اور مشکلات کے باوجود کئی نئے اقدامات اٹھائے گئے ۔ اجلاس کو “بلیو اکانومی” کے مجوزہ روڈمیپ پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر برائے بحری امور نے بتایا کہ ملک میں اس شعبے کی بے پناہ صلاحیت کے باوجود ماضی میں اس شعبے کو نظرانداز کیا گیا ۔ بلیو اکانومی کی ملک میں بے پناہ صلاحیت کے پیش نظر موجودہ حکومت اس شعبے کی ترقی کے لئے روڈمیپ وضع کر رہی ہے جس پر عملدرآمد کی بدولت نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ روزگار ، سیاحت، قابل تجدید توانائ کے بھی بھرپور مواقع پیدا ہوں گے ۔ اس امر کے پیش نظر وزیراعظم نے 2020 کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیا ہے ۔ جامع شپنگ پالیسی 2019 کی بدولت سرمایہ کاروں کو آسانی اور سہولیات کی فراہمی، 4.7 بلین روپے کے قرضے کی واپسی، 2 نئے آئل ٹینکرز کی فلیٹ میں شمولیت، وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت گاڑیوں کی نیلامی، نئی بوٹ بیسن جیٹی کی فعالی، ڈرائ بلک کارگو ٹرمینل کے لئے 11 کمپنیز کی شارٹ لسٹنگ، 2.2 بلین روپے کی ریکوری، پورٹ قاسم اتھارٹی کے منافع میں گزشتہ دو سال کے دوران ریکارڈ اضافہ، کوروناوائرس کی وبا کے باوجود 270 بحری جہازوں کی کارگو ہینڈلنگ، وزیراعظم کے گرین پاکستان ویژن کی روشنی میں ایک ملین مینگروو پودوں کی جاری پلانٹیشن، پورٹ قاسم اتھارٹی کے ماسٹر پلان کے لیے تفصیلی سٹڈی کی تکمیل، نئے ٹرمینلز کے قیام، انفراسٹرکچر کی بحالی و مجوزہ منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سےبھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو وزارت کی جانب سے مستقبل کے منصوبوں، خصوصا گوادر بندرگاہ سے جڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر بندرگاہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز ہو چکا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ مستقبل میں ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہو گی۔ وزیراعظم نے گوادر بندرگاہ سے جڑے ہوئے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔وزیراعظم نے وزارت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزارت کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد ممکن بنانے کے لیے بین الوزارتی رابطے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مستقل مشاورت کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے موثر ترجیحات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ٹائم لائنز بھی متعین کی جائیں۔وزیراعظم عمران خان نے وزارت بحری امور میں سرمایہ کاری اور ترقی کی بے پناہ صلاحیت کی بدولت ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی جن سے روزگار، علاقائی ترقی اور بھرپور منافع حاصل ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں