اسلام آباد : ریکوڈک کیس میں پاکستانی اداروں کے اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی شروع

حکومت پاکستان ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے مفادات کا دفاع کرے گی، اٹارنی جنرل آفس۔ فوٹو:فائل

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)  برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے ریکوڈک کیس میں ٹیتھیان کاپر کمپنی کی درخواست پر پاکستانی اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی شروع کر دی۔ اٹارنی جنرل آفس سے جاری بیان کے مطابق ٹیتھیان کاپر کمپنی کی پاکستان اثاثے منجمد کرنے کی درخواست پر برٹش ورجن آئی لینڈ ہائیکورٹ نے کارروائی شروع کرتے ہوئے حکم جاری کردیا جس میں پاکستانی اداروں کے مختلف اثاثوں کو کیس کے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ اٹارنی جنرل آفس کا کہنا ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے پاکستان کو سنے بغیر اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کیا، حکومت پاکستان ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے مفادات کا دفاع کرے گی۔ انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ) نے 12 جولائی 2019 کو پاکستان کو 5.6 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، پاکستان نے 5.6ارب ڈالر جرمانے کے خلاف اکسڈ سے مشروط حکم امتناع لیا تھا جس کے تحت پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی بنک گارنٹی غیر ملکی بنک میں جمع کرانی تھے۔ مشروط حکم امتناع کی مدت ختم ہونے پر ٹیتھیان کاپر کمپنی نے پاکستانی قومی اثاثے منجمد کرنے کی درخواست برٹش ورجن آئی لینڈ میں داخل کی جس پر یہ کارروائی شروع کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں