کراچی : گندم کی سمگلنگ روکنے کیلئے سرحدوں کو سیل کردیا جائے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف بھی جلد ازجلد آپریشن شروع کیاجائے،وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات

ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں، سندھ میں آٹا دوسرے صوبوں سے سستا ہے، ناصر شاہ، مرتضیٰ وہاب، پریس کانفرنس. فوٹو: فائل

کراچی (بزنس رپورٹ) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مارکیٹ میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ڈویژنل کمشنرز اور ڈی آئی جیز کو حکم دیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کو گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے سرحدوں کو سیل کردیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی آپریشن شروع کریں

صوبائی وزیر خوراک ہری رام اور سیکریٹری فوڈ نے 9 جولائی 2020 کو وزیر اعلیٰ سندھ کو گندم کے ذخائر کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ملک میں 6.840 ملین میٹرک ٹن گندم دستیاب ہے ، جس میں پنجاب میں 4.283 ملین میٹرک ٹن ،سندھ میں 1.262 ،کے پی کے میں 0.065 ،بلوچستان میں 0.092 اورپاسکو 1.138 ملین میٹرک ٹن شامل ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے گندم کی پیداوار کا 3.8 ملین میٹرک ٹن ہدف مقرر کیا تھا جس کے مقابلے میں ہم نے 3.852 ایم ایم ٹی کی پیداوارحاصل کی ہے جن میں 0.052 ملین میٹرک ٹن کی سرپلس دکھائی گئی ہے جبکہ دیگر تمام صوبے اپنا پیداواری ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2020-21 کے دوران گندم کی کھپت کا تخمینہ 27.470 املین میٹرک ٹن لگایا گیا ہے جس کے برعکس ملک میں گندم کا ذخیرہ 26.059 ہے اور اس طرح 1.411 ملین میٹرک ٹن کی کمی کا سامنا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اس قدر کمی نہیں ہے جس طرح ان مہینوں کے دوران گندم ؍ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے جبکہ حال ہی میں گندم کی فصل کی کٹائی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ دوسرے ممالک کو گندم اسمگل کرنے کا نتیجہ ہے اور ہمیں اسے سخت کارروائی کے ساتھ روکنا ہے۔ حیدرآباد ، سکھر ، لاڑکانہ ، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد کے کمشنروں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ آٹے کی قیمتیں ان کے ڈویژن میں مستحکم ہیں۔سیکریٹری فوڈ نے بتایا کہ کراچی میں فلور مل آٹے کی قیمت 57 روپے فی کلو اور چکی آٹا 64 سے 65 روپے فی کلو ریکارڈ کی گئی ہے۔ حیدرآباد میں فلور آٹا 57-56 اور چکی کا آٹا 61-60 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ میرپورخاص 46 سے 49 روپے فلور کا آٹا اور چکی کا آٹا 54 سے 58 روپے کلو، شہید بے نظیر آباد 50 سے 55 روپے فلور کا آٹا اور 55 روپے چکی کا آٹا فراہم کیا جارہاہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں گندم کا ذخیرہ کافی ہے اسی لیے قیمتیں مستحکم ہیں۔ تاہم انھوں نے تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈی آئی جیز کو ہدایت کی کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن شروع کریں اور گندم کی نقل و حرکت بھی بند کردیں۔ میں اس معاملے میں کسی غلطی یا کوتاہی کو برداشت نہیں کروں گا۔دریں اثنا وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں، سندھ میں آٹا دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سستا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ ہم عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں،کسی کو بھی عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم نے دوسرے صوبوں کو بھی ان کی درخواست پر گندم فراہم کی ہے، پر اپنے ملک کے باسیوں کے لیے بھیجی جانے والی گندم غیر ممالک نہیں جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں