ماؤنٹین ویو / کیلیفورنیا : پہلی بار ’مصنوعی ذہانت‘ جیٹ طیارے کو لے اڑی

ماؤنٹین ویو / کیلیفورنیا 15 دسمبر 2020ء کو امریکی فضائیہ نے ایک جدید کمپیوٹر الگورتھم کو بطور شریک پائلٹ تیار کیا ہے جو کہ تاریخی واقعہ ہے ۔ فوٹو : امریکن ایئرفورس ویب سائت

ماؤنٹین ویو، کیلیفورنیا (انٹرنیشل ڈیسک)  فضائی تاریخ میں پہلی بار آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک لڑاکا جیٹ طیارے کو اڑانے کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا ہے جس میں اے آئی نے بطورِ شریک پائلٹ ایک مرکزی جیٹ پائلٹ کی مدد کی ہے۔ 15 دسمبر کو ہونے والے اس تجربے میں مصنوعی ذہانت کے جدید ترین الگورتھم نے کوپائلٹ کی ذمے داری سنبھالی یعنی شریک پائلٹ کی سیٹ خالی تھی۔ اس تجربے میں یو ٹو ڈریگن لیڈی جیٹ کو اڑایا گیا جو نگرانی اور جاسوسی کا کام کرتا ہے۔ کیلی فورنیا کی بیلے ایئرفورس بیس سے اسے میجر ’ووڈو‘ نامی پائلٹ نے اڑایا جبکہ اس میں موجود ARTUµ نامی الگورتھم نے ہر موقع پر طیارے کو اڑان بھرنے میں مدد دی اور مرکزی پائلٹ کی رہنمائی اور مدد بھی کی لیکن یہ اتنا آسان کام نہ تھا کیونکہ تیز رفتار پرواز کی صورت میں معمولی غلطی بھی سنگین حادثے کی وجہ بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے مسلسل تین برس تک سافٹ ویئر کی تشکیل کی گئی۔ الگورتھم بنانے کا سارا کام امریکی فضائیہ کے یوٹوفیڈرل لیبارٹری میں کیا گیا ہے۔ اس تجربہ گاہ میں سافٹ ویئر کو وہ تمام کام سکھائے گئے جو عام طور پر پائلٹ کرتا ہے۔ ٹیسٹ فلائٹ میں اے آئی نے سینسر کو چلا کر اینٹی ایئر کرافٹ میزائل کا ایک مجازی حملہ بھی ناکام بنایا جو الگورتھم کی غیرمعمولی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب طیارے کے ٹیکنیکل اور نگرانی کے دیگر مشنز کو بھی سافٹ ویئر نے ہی انجام دیا۔ ہوا میں بلند ہوتے ہی ARTUµ الگورتھم نے طیارے کے تمام ضروری سینسر کا کنٹرول سنبھال لیا کیونکہ اسے 5 لاکھ سینسر کے ذریعے تربیت کروائی گئی تھی لیکن پورے فضائی تجربے میں سافٹ ویئر اور انسانی پائلٹ نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا اور اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سے بچاؤ میں یکساں طور پر ریڈار کا استعمال کیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں معمول کے فضائی امور مصنوعی ذہانت انجام دے گی اور پائلٹ دیگر ضروری امور پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں