سیئول : السی کے تیل والی اسمارٹ فون اسکرین… ٹوٹ کر دوبارہ جڑ جائے گی

السی کا تیل ٹوٹی ہوئی اسمارٹ فون اسکرین کو 95 فیصد تک دوبارہ جوڑ دیتا ہے

سیئول (سائنس و ٹیکنالوجی ڈیسک)  کوریا کے سائنسدانوں نے السی کا تیل استعمال کرتے ہوئے ایسی اسمارٹ فون اسکرین تیار کرلی ہے جو ٹوٹنے کے بعد پھر سے خود بخود جڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ اسمارٹ فون اسکرین بنانے میں شیشے کی جگہ ’’بے رنگ پولی امائیڈ‘‘ (سی پی آئی) کہلانے والے ایک خاص طرح کے شفاف اور لچک دار پلاسٹک کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ تاہم شیشے کی طرح یہ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ سی پی آئی کا یہ مسئلہ حل کرنے کےلیے جنوبی کوریا میں ’’کوریا انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ کے سائنسدانوں نے السی کے تیل سے بھرے ہوئے خردبینی کیپسول تیار کیے اور انہیں ’’پولی ڈائی میتھائل سائلوگزین‘‘ کہلانے والے شفاف سلیکون میں ملایا گیا۔ پھر اس محلول کو روایتی سی پی آئی اسکرین پر لگا کر سوکھنے دیا گیا۔ تجربات کے دوران یہ اسمارٹ فون اسکرین چٹخائی گئی اور اس میں دراڑیں بھی ڈالی گئیں۔ تاہم اسی دوران مائیکرو کیپسولز بھی ٹوٹ گئے اور ان سے نکلنے والے السی کے تیل نے پولی امائیڈ سے کیمیائی عمل شروع کردیا جس کے نتیجے میں اسکرین پر پڑنے والی دراڑیں دوبارہ صحیح ہونے لگیں۔ البتہ یہ عمل بہت سست رفتار تھا جسے مکمل ہونے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ معلوم ہوا کہ عام درجہ حرارت پر السی کے تیل سے اسمارٹ فون اسکرین کے ’’زخم‘‘ بھرنے کا عمل بہت وقت طلب ہے لیکن اگر ہوا میں نمی 70 فیصد اور درجہ حرارت بھی 70 ڈگری سینٹی گریڈ ہو تو اسکرین کی بحالی خاصی تیز رفتار ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کے بجائے اگر اسکرین پر الٹراوائیلٹ (بالائے بنفشی) شعاعیں ڈالی جائیں مائیکروکیپسولز سے نکلنے والا السی کا تیل صرف بیس منٹ میں خشک ہو کر سخت ہوجاتا ہے جبکہ اسکرین پر پڑنے والی 95 فیصد دراڑوں کی مرمت ہوجاتی ہے۔ اس تحقیق کی تفصیلات ’’کمپوزٹس پارٹ بی: انجینئرنگ‘‘ نامی ریسرچ جرنل کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں