خوشاب : اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ڈپٹی کمشنر خوشاب میڈم مسرت جبیں کی زیر نگرانی ضلع بھر میں سماجی بہبود کے لئے حتی المقدور بھر پور کوشاں ہیں : ملک امتیاز احمد مانگٹ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئر خوشاب

ملک امتیاز احمد مانگٹ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئر خوشاب ۔ فوٹو : راجہ نور الٰہی عاطف

خوشاب (رپورٹ : راجہ نورالہی عاطف ) اللہ تبارک و تعالی ا نے تحصیل نور پور تھل کی مٹی کو یہ شرف عطا کیا ہے کہ اس کا شمار وطن عزیز کی نامور سپوتوں کی دھرتی میں ہوتا ہے۔ ججوں کی بستی کے نام سے مشہور قصبہ پیلووینس بھی تحصیل نور پور تھل کا ہی حصہ ہے۔ تحصیل نورپور تھل کے نامور سپوتوں میں ایک نام ملک امتیاز احمد مانگٹ کا بھی ہے ۔ آپ کا آبائی تعلق نورپورتھل سے ہے۔ آپ یہاں کی معزز فیملی مانگٹ کے چشم وچراغ ہیں۔ مانگٹ برادری کی علاقہ تھل میں وکالت اور شعبہء تعلیم کے لیے گراں قدر خدمات ہیں ۔ ملک امتیاز احمد مانگٹ نہایت خوش اخلاق، ملنسار ،شریف النفس اوبردبار ،معاملہ فہم اورر ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ قومی خدمات انجام دینے کا آغاز کیا ۔ ملک امتیاز احمد مانگٹ ان دنوں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر خوشاب فرائض منصبی بطریق احسن سر انجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ڈپٹی کمشنر خوشاب میڈم مسرت جبیں کی زیر نگرانی ضلع بھر میں سماجی بہبود کے لئے حتی المقدور بھر پور کوشاں ہیں ۔ سوشل ویلفیئر آفیسر ز میڈم ہما عزیز راجہ اور میڈم ثمینہ راجہ سماجی تنظیموں کی فعالیت کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈسٹرکٹ خوشاب نے کہا کہ معاشرتی اصلاح اور فلاح کے لیے مخیر حضرات کو بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ انسانیت کی خدمت کی اسلامی تعلیمات کی رو سے بہت بڑی فضیلت ہے ۔ ملک امتیاز احمد مانگٹ نے کہا کہ ہم تمام مخیر حضرات اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کے مشکورو ممنون ہیں جو ضلع خوشاب میں سماج کی فلاح کے لیے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ڈسٹرکٹ خوشاب کے ساتھ پرخلوص تعاون اور عملی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیں من حیث القوم اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ خصوصا” معاشرہ کے معذور ونا دار طبقہ کا سہارا بننا چاہیے کیونکہ بقول شاعر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں