اسلام آباد : مولانا فضل الرحمٰن کی کرپشن کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ؛ اربوں روپے مالیت کے اثاثہ جات کے مالک کہاں کہاں کتنی مالیت کے اثاثے ہیں نیب کی تحقیقات جاری

مولانا فضل الرحمان کی کرپشن پر نیب میں انکوائری جاری ہے مولانا فضل الرحمن کے متعدد فرنٹ مین حراست میں ہیں جب کہ دو فرنٹ مین نیب انکوائری بھگت رہے ہیں جس کے بعد مولانا فضل الرحمن کی اربوں روپے مالیت کی ہوشربا جائیدادیں سامنے آئی ہیں ان میں ڈی آئی خان، اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ سمیت دبئی میں بھی پراپرٹی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے 1993 سے لیکر 2018تک مختلف ادوار میں اپنے بھائی ‘داما داور فرنٹ مینوں کے ذریعہ اربوں روپے مالیت کی بے نامی جائیدادیں بنانے‘ ڈیزل سمکلنگ‘ فنڈز میں بے ضابطگیوں اور کرپشن سے متعلق تفصیلات جاری کر دی گئ ہیں‘ حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے دو گھر اور ایک پلاٹ ڈی آئی خان میں ہیں، ایک بنگلہ ایف 8 اسلام آباد میں ہے جبکہ ایک فلیٹ دبئی میں ہے۔ جے یو آئی سربراہ کی کراچی اور کوئٹہ میں دکانیں ہیں۔ ان کا ایک گھر اور پانچ ایکڑ زرعی زمین عبدالخیل ڈی آئی خان میں ہے۔ اس کے علاوہ ایک گھر اور مدرسہ اور پانچ ایکڑ زمین شورکوٹ میں ہے۔ حال ہی میں مولانا فضل الرحمان نے تین ارب مالیت کی زمین چک شہزاد میں خریدی اور فروخت کردی۔ مولانا فضل الرحمان کی 47 لاکھ مالیت کمرشل اراضی بھی ہے جبکہ پندرہ لاکھ مالیت کی کمرشل اراضی عبدالخیل ڈی آئی خان میں ہے اور شورکوٹ میں 25 لاکھ مالیت کی کمرشل اراضی بھی مولانا فضل الرحمان کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے فنڈز میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کیں ۔ بے نظیر بھٹو دور حکومت میں 1993-96 میں ڈیزل سمگلنگ میں ملوث رہے ۔ محمود کمپنی مولانا لطف الرحمان اور حوالدار(ر) شریف اللہ (مولانا فضل الرحمان کے فرنٹ مین ) کی ملکیت ہے‘2002 میں مولانا فضل الرحمان نے جنگلات کا وہ ایریا جو مائننگ کے لئے مختص تھا وہ لیز کرایا‘2015 میں لیز منسوخی کے باوجود مائننگ جاری رہی مولانا فضل الرحمان نے فرنٹ مینوں کے زریعے منصوبوں میں کرپشن کک بیکس سے اربوں روپے مالیت کی زمینیں حاصل کی فرنٹ مین اور پراپرٹی کی تفصیل درج زیل ہے فرنٹ مین پراپرٹیز میں گل اصغر وزیر اینڈ سنز کے حوالے سے بتایا کہ گل اصغر وزیر اینڈ سنز خاندان مولانا فضل الرحمان کے ساتھ منسلک ہونے سے قبل انتہائی غریب خاندان تھا ‘ گل اصغر وزیر اور اسکے دو صاحبزادوں(نور اصغر اور نور رحمان) نے مولانا فضل الرحمان /ایم این اے کے اثرورسوخ سے مجموعی طورپر 3777 کنال 6 مرلہ اراضی حاصل کی جن کی تفصیلات یہ ہیں گائوں بھاب ‘ضلع ڈی آئی خان میں 39 کنال 15مرلہ ‘مقیم شاہ ‘ ضلع ڈی آئی خان میں 31 کنال 15مرلہ ‘ کیچ ‘ضلع ڈی آئی خان میں 220 کنال 4مرلہ ‘ ساگو جنوبی ‘ضلع ڈی آئی خان میں 8کنال 13مرلہ رحمان ٹائون ‘ضلع ڈی آئی خان میں1کنال 12مرلہ‘ رتہ کلوچی ‘ضلع ڈی آئی خان میں 10کنال 20 مرلہ اراضی ہے۔ دوسرے فرنٹ مین نور اصغر ولد اصغر وزیر کے زریعے گائوں بھاب ‘ضلع ڈی آئی خان میں 145 کنال 2مرلہ‘حندان ‘ضلع ڈی آئی خان میں 164کنال 17مرلہ ‘ چتر‘ ضلع ڈی آئی خان میں 40 کنال 4مرلہ ‘ مقیم شاہ ‘ضلع ڈی آئی خان میں 17کنال 6 مرلہ ‘ حسام ‘ضلع ڈی آئی خان میں 49 کنال 12 مرلہ ‘یرک ‘ضلع ڈی آئی خان میں8 کنال 11مرلہ ‘ کیچ ‘ضلع ڈی آئی خان میں 97 کنال 19مرلہ ‘ بدھ شرقی‘ ضلع ڈی آئی خان میں 58 کنال ٰٰ6 مرلہ ‘ محلہ عیسی ‘ضلع ڈی آئی خان میں 667 کنال 5 مرلہ ‘ رتہ کلوچی ‘ضلع ڈی آئی خان میں 4 کنال 4 مرلہ اراضی ہے ۔ ‘ ڈی آئی خان موسی خان کا ڈی آئی خان میں ایک گھر ‘ایک کار‘ڈی آئی خان شہر میں 4 کنال کا ایک پلاٹ پہاڑ پور ‘ ڈی آئی خان میں ایک فارم ہائوس ‘ 2 کرش پلانٹس ہیں ۔ زراعی اراضی میں ڈھکی میں 47 کنال 6 مرلہ‘متوالہ شاہ میں 112کنال 12مرلہ ‘ تیرگر میں 5 کنال ساڑھے 10 مرلے ‘راجان پور میں27 کنال 10 مرلہ جبکہ مجموعی زراعی اراضی 192کنال ساڑھے 18مرلہ ہے ۔ فرنٹ مین حاجی جلال خان ولد اعظم خان کے زریعے حاصل کی گئ اراضی مریالی تحصیل ڈی آئی خان میں 8 کنال 2.5 مرلہ‘ ساگو جنوبی ‘ ڈی آئی خان میں 3 کنال 8 مرلہ ‘شورکوٹ ‘ ڈی آئی خان میں 505 کنال 3 مرلہ‘تاکین ‘ ڈی آئی خان میں 17 کنال 2 مرلہ ‘جندا ‘ ڈی آئی خان میں 36 کنال 7 مرلہ ‘ کوٹلہ حبیب ‘ ڈی آئی خان میں 124 کنال 13مرلہ‘ ‘ ڈی آئی خان میں 20 کنال ہے ‘ مجموعی اراضی 714 کنال 12.5 مرلہ ہے ۔ رجسٹری کارڈ کے مطابق 24 جنوری 2009 ‘14 فروری 2009 اور 31 دسمبر 2010 کو 1077 کنال 14 مرلہ اراضی ٹرانسفر ہوئی ۔ فرنٹ مین عبدالرائوف (ماما) مولانا فضل الرحمان (نانکے) طرف سے خاندان کا حصہ ہیں ‘وہ بس کنڈیکٹر تھے اور ایم ایم اے حکومت میں ٹھیکوں میں شراکتدار شروع کی اور مفتی محمودہسپتال کی تذہین و آرائش کا ٹھیکہ مرضی سے لیا ‘ ایم ایم اے حکومت میں ضلع ناظم کا الیکشن لڑا اور منتخب ہوگیا‘ اپنے اس عہدے کے دوران اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کلرکوں فضل بابر اور رحمت اللہ کے زریعے ذاتی فوائد حاصل کیے ۔ 26جون 2005 کو صوبائی حکومت نے محمد اشرف علی خان (مولانا فضل الرحمان فرنٹ مین) کو 200 کنال اراضی الاٹ کی ‘ یہ ہی اراضی مولانا فضل الرحمان کو بھی الاٹ کی گئی تھی ‘ 14 اپریل 2017 کو یہ اراضی شریف اللہ ولد رحمت اللہ ساکن عبدالخیل تحصیل پہاڑ پور ‘ ڈی آئی خان کو منتقل کی گئی ‘ اشرف علی خان گیلانی ٹائون نزد وینسم کالج ‘ ڈی آئی خان کے مالک ہیں جس کی رجسٹری مہر دین راجپوت کو رجسٹری نمبر 1997 ‘ بیعہ نمبر 4 کاپی نمبر 353 ‘تاریخ 17دسمبر 2014 کے نام پر رجسٹرڈہے ‘ یہ بنگلہ ڈاکٹر ذوالفقار عالم خان سے خریدا گیا جس کی مالیت 2/3کروڑ ہے ‘ یہ بنگلہ مولانا لطیف الرحمان کے زیر استعمال ہے ۔ فرنٹ مین شریف اللہ ایف سی کے ریٹائرڈ حوالدار تھے اور غریب گھرانے سے ان کا تعلق تھا ‘ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد وہ معدنیاتی کانوں اور پیٹرول پمپ کے مالک بن گئے فرنٹ مین ریٹائرڈحوالدار شریف اللہ لطف الرحمان (فضل الرحمان کا بھائی ) محمود اینڈ کمپنی کے مالک ہیں ‘ان کی شیخ بادین ‘غوری تنگی گائوں چووندا پہاڑ پور جائیدادیں اور عبدالخیل میں ایک پیٹرول پمپ ہے ‘بطور مولانا فضل الرحمان فرنٹ مین ‘ شریف اللہ کو 200کنال سرکاری اراضی الاٹ کی گئی ۔ فضل الرحمان کے داماد کے والد اور فضل الرحمان کے فرنٹ مین سابق سینیٹر غلام علی قصہ خوانی بازارمیں ڈیلکس ہوٹل ہے‘سابق سینٹر غلام علی کے بیٹے کی مولانا فضل الرحمان کی بیٹی سے شادی ہوئی ‘1983-1990 میونسپل کارپوریشن پشاور میں کونسلربنا ‘2005میں ضلعی ناظم پشاررہا ‘ 2009-2016 کے دوران کے پی کے سے سینیٹر ‘2012-2015 ممبر بورڈ اف انوسمنٹ کے پی‘2012-15 سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے چیئرمین رہے اور اس دوران انہوں نے آمدن سے زاہد اثاثے بنائے ۔جن کی تفصیلات اس طرح سے ہے 18دوکانوں کی ملکیت فیاض علی ولد غلام علی ‘زبیر علی ولد غلام علی(سنز) ‘موضع پٹوا بالا پشاور میں سلیمان فلور‘جنرل مل کی ملکیت شمشاد کل دختر محمد گل‘زبیر علی ولد غلام علی‘ غلام فاروق ولد سبز علی‘ ورسک روڈ پر بابرک ویڈنگ ہال کی ملکیت غلام علی‘ ورسک روڈ پر 4کنال 6مرلہ رہائش کی ملکیت فیاض علی‘ شیر علی ‘اقراءولد غلام علی‘ورسک روڈ پر 16کنال 8مرلہ اراضی کی ملکیت غلام علی‘ قصہ خوانی بازار 16دوکانوں کی ملکیت فیاض علی ولد غلام علی (فضل الرحمان داماد)‘ورسک روڈ 8کنال 9مرلہ اراضی کی ملکیت زبیر علی ولد غلام علی‘ پشاور ‘ایل آر ایچ کے قریب وارد فرنچائزڈکی ملکیت غلام علی‘ سکندر پور پشاور میں 5مرلہ گھر کی ملکیت فیاض علی ‘ شیر علی ‘زبیر علی ولد غلام علی‘ قصہ خوانی بازار میں احمد شادی ہال کی ملکیت غلام علی‘ فروا چوک ‘پشاور میں دوکانوں کی ملکیت غلام علی‘ محمد علی ولد سبز علی ‘لال محمد‘ حاجی لال زمان ‘تاخیل بالا موضع میں 4کنال ایک مرلہ اراضی کی ملکیت غلام علی ولد سبزعلی ‘فیاض علی ولد غلام علی ‘ زبیر علی ولد غلام علی ‘کمرشل شاپس (باجوڑی گیٹ)کی ملکیت ربی دختر غلام علی‘ فرواچوک میں 3کمرشل دوکانوں کی ملکیت غلام علی ولد سبز علی ‘ محمد علی ولد سبز علی‘حاجی لال محمد ‘ حاجی لال زمان ‘قصہ خوانی بازار میں دوکانوں کی ملکیت غلام علی ‘ محمد علی ولد سبزعلی‘ حاجی لال محمد ‘ حاجی لال زمان ‘وزیر باغ روڈ پر 18 مرلہ اراضی کی ملکیت غلام علی ‘عمر علی ‘ حیات خان ولد سبز علی تہکل بالا پشاور میں ایک کنال اراضی کی ملکیت غلام علی‘ فلائنگ کرافٹ پیپر مل میں25فیصد شیئرز فیاض علی ولد غلام علی‘فلائنگ کرافٹ پیپر مل میں25 فیصد شیئرززبیر علی ولد غلام علی کے پاس ہیں ۔ یونیورسٹی روڈ پر 150ملین کی سرمایہ کاری غلام علی نے کی ‘بلال ٹاﺅن میں کمرشل عمارت کی ملکیت ذوالفقار علی ولد تلہ محمد ‘ زبیر علی ولد غلام علی کے پاس ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کو الاٹ ہونے والی غیر قانونی اراضی سے متعلق بتایا گیا ہے کہ ایم ایم اے حکومت کے دوران صوبائی حکومت نے 136000کنال اراضی الاٹ کی ‘ جنرل مشرف دور میں مولانا فضل الرحمان اور اکرم درانی کو 1200ایکٹر اراضی الاٹ ہوئی ‘شہداءکے لئے مختص جگہ غیر قانونی طورپر اپنے نام الاٹ کروائی گئ ۔ سابق ڈی ایف او موسی خان سے متعلق بتایا گیا کہ وہ جب مولانا فضل الرحمان کے ساتھ منسلک ہوئے تو انہوں نے بھی کرپشن کے نئے ریکارڈ قاہم کیے جن میں بلین ٹری منصوبے کے تحت 9.9ملین پودوں کی تقسیم میں بے ضابطگیاں ‘ 6.7ملین پیکٹس کی تعمیر کے دوران پی سی ون کی خلاف ورزی ‘بلین ٹری منصوبے میں غیر قانونی طور پر ادائیگیاں اور موسی خان اور بچوں اور بھیتیجے کو ادائیگیاں شامل ہیں ۔ ضیاءالرحمان (مولانا فضل الرحمان کے بھائی کی غیر قانونی تقرری کی گئی ۔2011میں مولانا فضل الرحمان کے فرنٹ مین کو 600ایکٹر زرعی اراضی الاٹ کی گئی (جو تحقیق اور بیجوں کی پیداوار کے لئے مختص تھی)۔ مولانا فضل الرحمان کی دیگر اراضی سے متعلق بتایا گیا ہے کہ 3640کنال اراضی مالیت 686ملین جو کہ مختلف ناموں پر تھی اسکی تفصیلات درجہ ذیل ہیں‘ ان میں 300ملین کی لاگت سے 10کنال کا بنگلہ اور ہمت گائوں300 کنال اراضی‘50ملین لاگت کا بابر کچا تحصل پروا میں 900کنال اراضی ‘50ملین لاگت کی رمک میں 350کنال اراضی پہاڑ پور میں اراضی ‘ 50ملین لاگت کی موضع شیخ راجو ڈی آئی خان میں 300کنال اراضی‘75ملین لاگت کی گڑھ رحمان میں 1500 کنال اراضی‘64ملین لاگت سے گرڈ سٹیشن یرک میں 160کنال اراضی ‘ 62ملین لاگت سے موضع غلام کھوئی میں 125کنال اراضی ‘ 50ملین لاگت سے موضع مریالی میں 5کنال 2مرلہ مارکیٹ شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں