کراچی : پی ڈی ایم ارکان اسمبلی کا استعفے پیش کرنے کا سلسلہ جاری

کئی ارکان نے ہاتھ سے لکھنے کے بجائے ٹائپ شدہ استعفے اسپیکر اور قیادت کے نام بھیجے فوٹو: فائل

کراچی (نمائندہ خصوصی)  اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں جے یو آئی اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے اپنی پارٹی قیادت کو استعفے جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔  ڈیلی جستجو ڈاٹ کام کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے احکامات کے  بعد اپوزیشن ارکان کی جانب سے استعفے دینے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنی اپنی قیادت کو استعفے بھیج رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سندھ سے پہلے استعفے کا اعلان رکن قومی اسمبلی کھیل داس کوہستانی نے کیا، انہوں نے ہاتھ سے تحریر کیا گیا استعفیٰ پارٹی قیادت کو ارسال کردیا ہے، جب کہ اسپیکر کے نام لکھا گیا استعفیٰ بھی ساتھ منسلک کیا ہے۔ مخصوص نشستوں پر منتخب رکن اسمبلی کھیل داس کوہستانی کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کی حکمرانی کے لئے اسمبلی رکنیت چھوڑنے کو تیار ہوں، قومی اسمبلی کی رکنیت پارٹی کی امانت ہے اور قیادت کے ہر فیصلے پر ساتھ ہوں۔ پنجاب اسمبلی سے (ن) لیگ کے دو ارکان چوہدری عادل بخش چٹھہ اور بلال فاروق تارڈ نے اپنے استعفے پارٹی کو جمع کروادیئے ہیں، بلال فاروق تارڈ نے 2018 کے انتخابات میں پی پی 53 سے کامیابی حاصل کی تھی، جب کہ عادل بخش چٹھہ  پی پی 54 سے ن لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ پنڈدادن خان کے حلقہ پی پی 27 سے لیگی رکن صوبائی اسمبلی حاجی ناصر نے بھی تحریری استعفیٰ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو لکھ دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے پہلے رکن صوبائی اسمبلی ملک ظفر اعظم نے اپنا استعفیٰ اپوزیشن احتجاجی کیمپ میں صوبائی سیکرٹری اطلاعات کو پیش کیا۔ ملک ظفر اعظم 2018 کے انتخابات میں پی کے 86 کرک سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ ایم پی اے پی پی27 حاجی ناصر نے پنجاب اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، جب کہ پیپلزپارٹی کے رکن کے پی اسمبلی احمد کنڈی نے بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو استعفی بھیج دیا ہے۔ دوسری جانب اسمبلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ (ن) لیگ کے کئی ارکان مستعفی ہونے کے طریقہ کار سے لاعلم ہیں، رکن قومی اسمبلی افضل کھوکھر، ارکان پنجاب اسمبلی صہیب بھرتھ، سیف کھوکھر، بلال تارڑ، عنیزہ فاطمہ سمیت دیگر رولز آف پروسیجر سے لاعلم ہیں، کئی ارکان نے ٹائپ شدہ استعفے اسپیکر اور قیادت کے نام بھیجے، جب کہ مستعفی ہونے کے لیے ہاتھ سے لکھا استعفی ضروری ہے، اور  پرنٹ شدہ استعفی قابل قبول نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں