گجرات : وطن کے دفاع میں جان دینے والے میجر شبیر شریف کا 49 واں یوم شہادت

میجر شبیر نے 6 دسمبر 1971ء کو دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے بہادری کی نئی داستان رقم کی اور جام شہادت نوش کیا . فوٹو : فائل

گجرات (نمائندہ خصوصی) جان کا نذرانہ پیش کرکے مادر وطن کا دفاع کرنے والے میجر محمد شبیر شریف شہید نشان حیدر کا آج 49 واں یوم شہادت ہے۔

میجر شبیر شریف شہید 28 اپریل 1943ء کو ضلع گجرات کے علاقے کنجاہ میں میجر رانا محمد شریف کے ہاں پیدا ہوئے، میجر محمد شبیر شریف نے ابتدائی تعلیم سینٹ انتھونی ہائی اسکول لاہور سے حاصل کی۔ اسکول میں وہ ذہین طالب علم اور کرکٹ و ہاکی کے بہترین کھلاڑی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی جنرل راحیل شریف پاک فوج کے سپہ سالار کے عہدے تک پہنچے جب کہ ان کے رشتہ دار میجر عزیز بھٹی نے 1965ء کی جنگ میں دلیری کی بے مثال داستان رقم کرکے نشان حیدر حاصل کیا تھا۔ میجر محمد شبیر شریف 1961ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے جب وہ پاک فوج میں شامل ہوئے اور 29 ویں لانگ کورس کے لیے پی ایم اے کاکول پہنچے، پی ایم اے میں بھی انہوں نے ہاکی، کرکٹ، فٹ بال، سائیکلنگ اور ایتھلیٹکس میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 19 اپریل 1964ء کو اعزازی شمشیر حاصل کرکے 6 فرنٹیئر فورس ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، یکم اکتوبر 1965ء کو لیفٹیننٹ، 19 اپریل 1966ء کو کیپٹن اور 19 اپریل 1970ء کو میجر کے عہدے پر ترقی پائی۔ میجر شبیر شریف نے 1965ء کے پاک بھارت معرکے میں ٹروٹی کے محاذ پر دوران گشت بھارتی آرٹلری بیٹری کی گن پوزیشنوں پر حملہ کرکے اس پر کنٹرول حاصل کیا اور چار فوجیوں کو جنگی قیدی بناکر دو گنز تباہ کرکے اور ایک قبضے میں لے لی۔ ان کی اس کامیابی سے 10 انفینٹری بریگیڈ، 6 ایف ایف، 13 لانسرز اور 14 پنجاب ریجمنٹ کو نمایاں پیش رفت کا موقع ملا اور بھارتی فوجی ٹروٹی اور جوڑیاں سے بوکھلا کر میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس بہادری پر انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا، انہیں دسمبر 1971ء میں بطور کمپنی کمانڈر 6 ایف ایف یہ آرڈر ملا کہ وہ اپنے جوانوں پر مشتمل کمپنی کے ہمراہ سلیمانکی ہیڈ ورکس کے قریب سبونہ بند کے اہم مقام کا کنٹرول حاصل کریں، اس مقام پر دشمن کی آسام ریجمنٹ کی کمپنی سے زائد نفری پر مشتمل ٹیم تعینات تھی، جسے ٹینکوں کے اسکواڈرن کی سپورٹ بھی حاصل تھی۔ میجر شبیر شریف اگلے 3 دن اور راتیں منظم کوشش اور اعلیٰ مہارت سے دشمن کے لیے چھلاوا بنے رہے۔ انہوں ںے دشمن کے 43 فوجی جہنم واصل کرتے ہوئے 4 ٹینک تباہ کرکے حریف پر کاری ضرب لگائی۔ میجر شبیر شریف اور ان کے ساتھیوں نے دشمن کی 2 بٹالین کو سخت مزاحمت دی، اس مقام پر دوران جنگ بھارتی میجر نارائن سنگھ نے میجر شبیر شریف کو للکارا جس کا جواب میجر شبیر شریف نے دشمن کے سامنے کھڑے ہوکر دیا۔ میجر نارائن سنگھ کے پھینکے گرنیڈ سے میجر شبیر شریف کی شرٹ آگ لگنے سے جل گئی، دونوں کے درمیان دو بدو مقابلہ ہوا، جس میں میجر شبیر شریف نے اپنے دشمن کو زمین پر گرا کر اپنا گھٹنا اس کے سینے پر رکھ کر قابو کیا اور پھر مشین گن کا پورا برسٹ اس پر خالی کردیا۔ شبیر شریف نے 4 سے 6 دسمبر تک مسلسل دشمن کے کئی حملے ناکام بنائے، میجر شبیر شریف نے 6 دسمبر کو دشمن کے فضائی تعاون اور ٹینکوں سے کیے گئے بڑے حملےکو ناکام بناتے ہوئے اپنے سینے پر وار سہا اور وطن کی راہ میں جام شہادت نوش کیا۔ میجر شبیر شریف کی سربراہی میں اس محاذ پر 6 ایف ایف نے مسلسل 12 روز دشمن کو ایسی ہزیمت دی کہ اسے صرف اس سیکٹر پر اپنے 3 جی او سی بدلنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں