راولپنڈی : ملتان اسٹیڈیم کے تالے توڑنے والوں کے ہاتھ توڑیں گے، فردوس عاشق اعوان

ملتان میں کارکنوں کے خلاف نہیں بلکہ انہیں اکسانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، معاون خصوصی

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)  فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ملتان میں شرپسند عناصر ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں اور اسٹیڈیم کے تالے توڑنے والوں کے ہاتھ توڑیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کورونا نے ملک میں پنجے گاڑ دیے ہیں، حکومت اور عدالتیں اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلے کر رہی ہیں لیکن پی ڈی ایم عدالتی حکم کا جنازہ نکال رہی ہے ، نادان دوست اپنے خلاف مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے عوام کو مقدمات میں پھنسانا چاہتے ہیں ، ملتان میں بھائی چارے کی فضا کو خراب کیا گیا ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملتان میں شرپسند عناصر قانون کے منہ پر طمانچہ مار کر ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، ان عقل کے اندھوں کو سمجھ نہیں کہ حکومت کے پاس آئینی اور قانونی تحفظ موجود ہے اور یہ شرپسندی روکنے کی طاقت ہے لیکن حکومت عوام پر تشدد کرکے خوش نہیں ہوسکتی، پولیس سے شرپسندوں کی کٹھ پتلیاں اور سہولت کار الجھ رہے ہیں لیکن قانون اس شرپسندی کو روکے گا اور اپنا راستہ بنانے جا رہا ہے، ملتان اسٹیڈیم کے تالے توڑنے والوں کے ہاتھ توڑیں گے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے گھر ماں کا جنازہ پڑا ہے لیکن صف مرگ پر بھی نفرت کی آگ بھڑکائی گئی اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، دو بچے ابو بچاؤ تحریک چلا رہے ہیں اور قوم کے بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اشرافیہ اپنےلیے کورونا ایس او پیز پر عمل کرتی ہے ، اپنے گھر میں ہونے والی تقریب میں کورونا ٹیسٹ لازم قرار دیا گیا لیکن قوم کے بچوں کو کورونا میں جھونک رہے ہیں۔فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ تھکی ہوئی گاڑی کو بلاول اور مریم دھکے لگا رہے ہیں جس کا گیئر پرانا ہے اور اس نے گاڑی نے نہیں چلنا، اب ویڈیو لنک کا زمانہ ہے اور ویبینار ہو رہے ہیں ، نہتے عوام کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے، جو کھیل ملتان میں کھیلا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی قانون اپنا راستہ بنائے گا، ملتان میں جس نے فساد پھیلایا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، ملتان جلسے کے بعد کورونا پھیلاؤ کی شرح میں اضافے کا سبب پی ڈی ایم ہوگی، اس مرتبہ کمزور نہیں بلکہ طاقت ور پر ہاتھ ڈالا جائے گا، قانونی کارروائی کارکنوں کے خلاف نہیں بلکہ انہیں اکسانے والوں کے خلاف ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں