اسلام آباد : زرعی آمدن کے بہانے ٹیکس سے بچنے والے بڑے زمینداروں کے گرد گھیرا تنگ

اسلام آباد ( کامرس رپورٹر ) ذریعہ آمدن زراعت ظاہر کر کے ٹیکسز سے بچنے والے بڑے زمینداروں کے گرد وفاقی حکومت نے گھیرا تنگ کردیا۔ وفاق نے ٹیکسز سے بچنے کیلیے ذریعہ آمدن زراعت ڈکلیئر کرنے والوں سے ٹیکسز کے حصول کے لئے صوبوں سے تعاون مانگ لیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد ایسے لوگ ہیں جنھوں نے وفاقی ٹیکس ریٹرنز میں 79 ارب روپے زرعی آمدن ظاہر کی ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز ہونے والی پیشرفت میں حکومت نے منی سروس بیوروز اور ایکسچینج کمپنیز کو فارن ترسیلات کی منتقلی کے لیگل ذریعہ کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ چیئرمین فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے ٹیکس سے بچنے کے شبہ پر 35 فیصد سے زائد انکم ٹیکس ریکوری کے لئے فائل کئے گئے ٹیکس کیسز واپس لینے کے لئے سرکلر جاری کر دیا ہے جیسا کہ یہ فارن ترسیلات ایکسچینج کمپنیوں اور منی سروس پرووائیڈرز کے ذریعے وصول ہوئی تھیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے قومی ریونیو بڑھانے کی خاطر 4 صوبائی وزرائے خزانہ کو تعاون کے لئے خطوط لکھ دیئے ہیں۔ وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت کو لکھے گئے خط میں انہوں نے لکھا کہ ٹیکس ایئر 2020 میں پنجاب کے ڈومیسائل کے حامل تقریباََ ایک لاکھ 28 ہزار 550 ایسے لوگ ہیں جنہوں نے زرعی آمدن استشنیٰ میں 51.4 ارب روپے ڈیکلیئر کئے۔ شبہ ہے کہ ایسی آمدن صوبائی انکم ٹیکس واجبات سے ڈسچارج نہیں کی گئی ۔ ایف بی آر کے مطابق چار صوبوں سے ایک لاکھ 61 ہزار 69 فائلرز نے زراعت سے 79 ارب روپے کمائے جو انہوں نے ڈیکلیئر کئے اور انکم ٹیکس چھوٹ کا دعویٰ کیا۔ سندھ سے 25 ہزار زمینداروں نے فیڈرل انکم ٹیکس سے 23.2 ارب روپے کی چھوٹ حاصل کی۔ خیبرپختونخوا سے 6140 سے 2.7 ارب اور بلوچستان سے 1500 زمینداروں نے 1.5 ارب روپے کی وفاقی انکم ٹیکس چھوٹ ڈیکلیئر کی۔ آئین پاکستان کے مطابق زراعت سے حاصل ہونے والی آمدن صوبوں کا معاملہ ہے ۔ تقریباَََ ہر بااثر زمیندار اور صنعتکار کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ آمدن زمین سے حاصل ہونے کا دعویٰ کر کے ٹیکس سے بچا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں