174

سابق کیپٹن ندیم خان کی موجودہ حکومتی صورت حال پر اظہار خیال

جیسا کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے 2018 کے برائے نام الیکشن میں عمران خان کو الیکٹ نہیں سیلیکٹ کیا گیا تھا. اس وقت بھی الیکشن سے قبل 126 دن کے دھرنے سمیت اس شخص نے ہر ممکن غیر قانونی و غیر آئینی حربوں کے زریعے ہماری حکومت کو گرانے کی کوشش کی مگر ناکام ہوا اور ن لیگی حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کیے.
اب جبکہ جھوٹے جھانسے، مہنگائی، نا انصافی، بد امنی، ناکام خارجہ پالیسی اور بد عہدی کی وجہ سے نا صرف اتحادی جماعتوں نے اسے چھوڑ دیا بلکہ اس کی اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی بھی مایوس ہو کر اس سے الگ ہو گئے. اور اسے راستے میں حکومت کو چھوڑ کر بھاگنا پڑا.
اب پبلک میں جاکر یہ شخص اپنی ہی حکومت میں کی جانے والی مہنگائی، کرپشن اور کروڑوں نوکریاں دینے کا بیانیہ تو بنا نہیں سکتا تھا.
لہذا اس شخص نے روٹین کے ایک سفارتی خط کو بنیاد بنا کر بہت ہی خطرناک اور بے بنیاد بیانیے کا سہارا لیا ہے کہ میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک امریکہ کی ایما پر لائی گئی ہے. جبکہ اس بیانیے کو پاکستان کی عدلیہ، افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے تمام ادارے مسترد کر چکے ہیں مگر اس شخص کے پاس اب بیچنے کے لیے کچھ بچا نہیں اس لیے وہ قوم کی نوجوان نسل کو گمراہ کر کے سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اس بے بنیاد اور خطرناک بیانیے کا سہارا لے کر پاکستان میں میاں شہباز شریف صاحب کی قیادت میں بننے والی ن لیگی حکومت کے خلاف مہم جوئی کر رہا ہے.
اور آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے.
لہذا میری تمام قائدین اور کارکنان بالخصوص ن لیگی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس سے درخواست ہے کہ اسے اپنے لیے ایک چیلنج تصور کرتے ہوئے پارٹی کا دفاع کیا جائے اور عمران خان کے اس خطرناک اور جھوٹے بیانیے کو شکست دینے کے لیے یک زبان بیانیہ بنایا جائے جس سے وطن عزیز کے نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ اس جھوٹے بیانیے کو بھی شکست فاش سے دوچار کیا جا سکے .
ایک ایسا ٹاپ ٹرینڈ بنانے کی ضرورت ہے کہ ایک ووٹر سے لیکر قائدین تک سب لوگ ایک ہی بیانیہ اپنائیں اور تب تک اسی بیانیے پر زور رکھا جائے جب تک کہ امریکن سازش پر مشتمل جھوٹا بیانیہ پٹ نہ جائے.
یہ وقت تنقید برائے تنقید کا نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی اپنانے کا ہے.
فی الحال معاملہ ووٹ کا نہیں بلکہ مارکیٹ میں پھیلائے جانے والی جعلی اور بے بنیاد بیانیے کو شکست دینے کا ہے.
اگرچہ قومی سلامتی کے اداروں کی طرف سے بھی اس کی مذمت کی جا رہی ہے کیونکہ عمران خان کے اس بے بنیاد بیانیے سے دینا بھر میں پاکستانی سفارتکاروں کو بھی کام کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے.
تاہم بطور ایک سیاسی ورکر ہماری پہلی ذمہ داری اس بیانیے کے توڑ میں اپنا ایک موثر بیانیہ ترتیب دینے کی فوری اور اشد ضرورت ہے تاکہ اس برائی کو معاشرے میں پھیلنے سے روکا جا سکے .
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر رہے. آمین ثمہ آمین
دعاگو
مسلم لیگ ن کا ایک ادنیٰ کارکن
سابق کیپٹن ندیم خان
حلقہ 6 سماہنی ضلع بھمبر
آزاد کشمیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں