77

روس کے مطالبات اب ‘حقیقت پسندانہ’ لگ رہے ہیں، یوکرین

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات اب پہلے سے، ‘زیادہ حقیقت پسندانہ’ اور مثبت لگ رہے ہیں۔ بدھ کے روز وہ امریکی کانگریس سے دوبارہ خطاب کرنے والے ہیں۔یوکرین پر روسی حملے کے اب بیس روز سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں اور اب بھی متعدد شہروں میں لڑائی جاری ہے۔ بدھ کی صبح بھی کئی شہروں میں سائرن سنائی دیے۔ یہ سائرن ممکنہ طور پر ہونے والے میزائل حملوں سے لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے بجائے جاتے ہیں تاکہ وہ کسی محفوظ مقام پر پناہ لے سکیں۔ادھر دارالحکومت کییف مسلسل شدید گولہ باری کی زد میں ہے اس لیے شہر میں 35 گھنٹوں سے کرفیو لگا ہوا ہے۔ یہاں گزشتہ روز فضائی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں فورسز نے روسی پیشقدمی کی کوشش کو پسپا کر دیا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 24 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے روزانہ تقریباً 70,000 بچے پناہ گزین بن رہے ہیں جبکہ یوکرین سے آنے والے مہاجرین کی کل تعداد تین ملین سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں