107

شہد کے فوائد جان کر اللہ کا شکر بجا لائیے

ماہرین ِ طب نے اپنی تحقیقات اور تجربات کی روشنی میں شہد کے کئی فوائد ذکر کیے ہیں جن میں سے چند فوائد ہدیہٴ ناظرین کیے جاتے ہیں: شہد پیاس کو بجھاتا ہے ۔ حافظہ کو قوت بخشتا ہے؛چنانچہ امام ِزہری کا ارشاد ہے :﴿عَلَیْکَ بِالْعَسَلِ فَاِنَّہ جَیِّدٌ لِلْحِفْظِ﴾ ترجمہ :شہد کا اہتمام کرو؛ کیونکہ یہ حافظہ کے لیے بہترین ہے ۔ شہد ردی رطوبتیں نکالتا ہے ۔ اس کا کثرتِ استعمال استسقاء،یرقان ، عسرالبول ،ورمِ طحال،فالج ،لقوہ ،زہروں کے اثرات اور امراض سر وسینہ میں مفید ہے۔ پتھری کو خارج کرتا ہے ۔ باہ ، بصارت ،اور جگر کو قوت ملتی ہے۔ بو علی سینا اسے مقوی معدہ بھی قرار دیتے ہیں۔ دانتوں کے لیے شہد ایک بہترین ٹانک ہے ،اسے سرکہ میں حل کرکے دانتوں پر ملنا ان کو مضبوط کرتا ہے، اور مسوڑھوں کے ورم دور کرنے کے علاوہ دانتوں کو چمکدار بناتاہے،گرم پانی میں شہد اور سرکہ کے ساتھ نمک ملا کر غرارہ کرنے سے گلے اور مسوڑھوں کا ورم جاتا رہتا ہے۔ نہار منہ شہد پینے سے پرانی قبض ٹھیک ہو جاتی ہے،کھٹے ڈکار آنے بند ہو جاتے ہیں اور اگر پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہو تو وہ نکل جاتی ہے ۔ اطباء قدیم نے افیون ،پوست اور بھنگ کے نشہ کو زائل کرنے کے لیے گرم پانی میں شہد مفید بتایا ہے۔ انسان بڑھاپے میں عموماًتین مسائل کا شکار ہو تا ہے:۱۔ جسمانی کمزوری، ۲۔بلغم، ۳۔جوڑوں کا درد،قدرت کا کرشمہ ہے کہ شہد کے استعمال سے یہ تینوں مسائل آسانی سے حل ہو جاتے ہیں ۔ شہد میں Antiseptic خصوصیات ہونے کی بنا پر زخموں پر لگانا یا جلی ہوئی جلد پر لگانا نہایت مفید پایا گیا ہے۔ چہرے سے مہاسے اور پھنسیاں دور کرنے کے لیے بہت اچھا علاج سمجھا جا تا ہے ۔ طب ِنبوی کے مشہور مرتب علاء الدین کحال (م۷۲۰ھ -۱۳۲۰م)نے شھد کو اسہال کے علاوہ غذائی سمیت یعنی Food poisining میں مفید قرار دیا ہے۔ طالبِ علموں کے لیے انتھائی مفید بتایا جاتا ہے ،زیادہ دیر تک پڑھ سکنے کا باعث اور ان کی یادداشت کے بہتر رہنے کا ذریعہ ہے۔ دل کے مریضوں کو اسے پینے کے دوران دورے نہیں پڑتے۔یہ شہد کی چند خصوصیات تھیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدرت کا یہ عظیم الشان تحفہ کتنی اہمیت و افادیت کا حامل ہے ،جوایک معمولی سی لطیف گشتی مشین جو ہر قسم کے پھل پھول سے مقوّی عرق اور پاکیزہ جوہر کشید کرکے اپنے محفوظ گھروں میں ذخیرہ کرتی ہے، اس سے حاصل کیا جاتا ہے، ربّ ذوالجلال سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی نعمتوں کی کما حقّہ قدردانی اور اپنے حبیب جناب ِنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کو اپنے سینوں سے لگانے کی توفیق عطا فرمائے،اور اپنے آباوٴاجداد کے حقیقی وارث بن کران کے علمی سرمایہ سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہِ راست پر لانے کے لیے قبول فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں