کراچی : اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل پاور آف اٹارنی سروس کا افتتاح

کراچی : وزیراعظم عمران خان نے سمندر پار پاکستانیوں کو بڑی سہولت دیتے ہوئے ڈیجیٹل پاور آف اٹارنی سروس کا افتتاح کر دیا۔ ترجمان نادرا کے مطابق نئی سہولت کی بدولت اب سمندر پار پاکستانی پاور آف اٹارنی آن لائن حاصل کر سکیں گے، جدت آمیز سروس کی بدولت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بے پناہ آسانی پیدا ہو جائے گی، اس سے پہلے انہیں پاور آف اٹارنی کے حصول کے لیے طویل سفر طے کر کے متعلقہ ملک کے سفارت خانے یا قونصلیٹ جانا پڑتا تھا۔ نادرا نے وزارت خارجہ کے اشتراک سے اس سلسلے میں آن لائن نظام متعارف کیا ہے، درخواست گزار آن لائن پاور آف اٹارنی کے اجراء کی درخواست جمع کرا سکیں گے۔ چیئرمین نادرا طارق ملک کے مطابق ہر سال 73 ہزار سے زائد سمندر پار پاکستانیوں کو پاور آف اٹارنی کے حصول کے لئے ذاتی طور پر اپنے متعلقہ ملک کے پاکستانی مشن یا سفارت خانوں میں جانا پڑتا تھا، ابتدائی طور پر یہ آن لائن سروس بیرون ملک پاکستان کے 10 مشن میں شروع کی گئی ہے، تمام دیگر مشن میں بھی فراہم کر دی جائے گی۔ طارق ملک کے مطابق آزمائشی مرحلے کے 10 مشن میں امریکا میں واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، شکاگو، ہاؤسٹن اور لاس اینجلس جبکہ برطانیہ میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر، گلاسکو اور بریڈ فورڈ میں پاکستان کے مشن شامل ہیں، نادرا کی بنائی ہوئی پاور آف اٹارنی تصدیق کی اس جدت آمیز سہولت میں پاک آئی ڈی آن لائن کی جدید ترین بائیو میٹرک تصدیق کی سہولیات کو استعمال کیا گیا ہے۔ نادرا کے مطابق درخواست گزار کو کاغذ پر اپنے اور دو گواہوں کے انگوٹھے کے نشانات لگا کر انہیں اسکین کرنا ہوگا، پھر اپ لوڈ کرنا ہو گا جن کی تصدیق نادرا کے ڈیٹا بیس سے کی جائے گی، بایو میٹرک تصدیق کے بعد نادرا کی جانب سے وڈیو انٹرویو ماڈیول کا انتظام کیا گیا ہے، متعلقہ پاکستانی مشن کے قونصلرآفیسر اس درخواست دہندہ اور گواہان کا انٹرویو کریں گے، پاور آف اٹارنی جاری کرنے کے لئے ان کی رضامندی حاصل کریں گے۔ نادرا کے مطابق اس سروس میں اسکین شدہ دستاویزات اور تصویریں اپ لوڈ کرنے کی سہولت بھی شامل ہے، پاکستانی مشن کے قونصلر آفیسر نادرا کے ڈیٹا کی روشنی میں فراہم کی گئی معلومات کا موازنہ کر کے ان کی تصدیق بھی کر سکتے ہیں۔ یہ خصوصیات عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار “ای- کے وائی سی” کے عین مطابق ہیں۔ نادرا، پاک آئی ڈی لائیو چیٹ کے ذریعے درخواست گزاروں کو پیش آنے والے مسائل پر قابو پانے کے لئے جاری بنیاد پر معاونت بھی فراہم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں