کراچی : بابر اعظم سے خواتین سے متعلق نامناسب سوالات ؛ ندا یاسر کو تنقید کا سامنا

کراچی : مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر کا ایک پرانا انٹرویو وائرل ہورہاہے جس میں ان پر قومی کپتان بابر اعظم سے خواتین سے متعلق نامناسب سوالات پوچھنے پر تنقید کی جارہی ہے۔ بلاشبہ ندا یاسر کو ’’مارننگ شوز کی کوئین‘‘ کہا جاتا ہے لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ’’تنازعات کی کوئین‘‘ بھی ہیں۔ کیونکہ دوران مارننگ شو وہ جتنے تنازعات میں گھری ہیں شاید اور کوئی میزبان اتنے تنازعات کا شکار نہیں ہوئی۔ اب چاہے وہ ریپ کا شکار ہونے والی معصوم بچی کے والدین سے آن ایئر نامناسب اور بے ہودہ سوالات پوچھنا ہو یا فارمولاون ریسنگ کار کے بارے میں معلومات نہ ہونا۔ ندا یاسر اپنی کم علمی کی وجہ سے کسی نہ کسی تنازع کا شکار ہوہی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ندایاسر کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ وائرل ہورہا ہے جس میں وہ قومی کپتان بابر اعظم کا انٹرویو کررہی ہیں۔ انٹرویو کے دوران وہ ان سے پوچھ رہی ہیں کہ بابر کو شادی کے لیے کیسی لڑکی کی تلاش ہے اور پھر خود ہی ان سے لڑکی کے متعلق نہایت نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے سوالات پوچھنا شروع کردیتی ہیں کہ بابر کیا آپ کو ایسی لڑکی چاہئے جو آپ کو بیڈ ٹی دے، صبح آپ کے کپڑے استری کرے وغیرہ وغیرہ جس پر بابر اعظم انہیں جواب دیتے ہیں کیا میں بچہ ہوں جو صبح اسکول جاتا ہے۔ بابر اعظم نے کہا انہیں شادی کے لیے ایسی لڑکی چاہئے جو انہیں اور ان کے گھر والوں کو سمجھے۔ شاید ندا یاسر بابر اعظم کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئیں لہذا انہوں نے لڑکی سے متعلق مزید سوالات کرنے شروع کردئیے اور پوچھا کہ آپ کیسی لڑکی سے شادی کریں گے جس کی آنکھیں بڑی ہوں، لمبا قد ہو، لمبے بال ہوں یاپھر چھوٹے قد کی اور موٹی لڑکی بھی چلے گی؟ بابر اعظم نے جواب دیا انہیں نارمل لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ ندا نے مزید پوچھا اگر لڑکی سانولی ہو چلے گی یا گوری چٹی لڑکی چاہئے۔ اس کے علاوہ پاکستانی ہو یا باہر ملک کی، سندھ کی ہو، پنجاب کی ہو یا خیبر پختونخوا کی؟ بابر اعظم ندا یاسر کے ان سوالات سے کافی جھینپے ہوئے نظر آئے تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں ایک نارمل لڑکی سے شادی کرنی ہے جو انہیں اور ان کے گھروالوں کو سمجھے۔ ندا یاسر کے اس انٹرویو پر سوشل میڈیا صارفین شدید تنقید کررہے ہیں۔ اور ان کے لڑکیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نامناسب الفاظ جیسے ’’سانولی، موٹی، چھوٹے قد کی‘‘ پر اعتراض کررہے ہیں۔ فوزیہ نامی خاتون نے لکھا ’’سانولی بھی چلے گی‘‘ جیسے کوئی گزارے کی چیز ہو یا پھر ایکسٹرا، کیا جہالت ہے خدا کی پناہ۔ اقرا نامی خاتون نے لکھا ’’سانولی چاہئے یا گوری‘‘ کیا واقعی؟ رومانا نے لکھا کیا ہیں یہ لوگ؟ جب سانولی کی بات کی تو گندا سا منہ بنایا جب کہ گوری چٹی پہ کھلکھلا کے بول رہی ہے پھر کہتے ہیں معاشرے میں نسل پرستی کیوں ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں