کولمبس ، اوہایو : پروسیس شدہ غذائیں یادداشت اور دماغ کے لیے مضر

کولمبس، اوہایو: سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پروسیس شدہ غذائیں یادداشت متاثر کرکے دماغ کووقت سے پہلے بوڑھا کرسکتی ہیں۔ سائنسدانوں نے تجربات سے ثابت کیا ہے کہ چوہوں کو جب بلند پروسیس شدہ غذا دی گئی تو صرف چار ہفتوں میں ہی دماغی جلن یا سوزش بڑھنے لگی، ان کی یادداشت کمزور ہوئی لیکن جب اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ملایا گیا تو پروسیس شدہ غذا کے منفی اثرات میں کمی واقع ہوئی۔ پروسیس شدہ فوڈ ایسے کھانے ہوتے ہیں جنہیں طویل عرصے استعمال کرنے کے لیے خاص پیکنگ میں رکھا جاتا ہے اور ان میں طرح طرح کے کیمیکل ملائے جاتے ہیں۔ دوسال قبل اقوامِ متحدہ کے ماہرین پروسیس شدہ سرخ گوشت پر پابندی کی سفارش بھی کرچکی ہے۔ اوہایواسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کہا ہےکہ منجمند کباب، پیزا، سموسے، آلو کے چپس اور دیگر اشیا پروسیس شدہ کھانوں میں شامل ہیں۔ اس سے قبل انہیں ذیابیطس، اور موٹاپے کی وجہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ایک طویل عرصے تک کھانے سے یہ امراض جنم لیتےہی۔ لیکن جہاں تک دماغ متاثرکرنے کا معاملہ ہے تو اس کے منفی اثرات صرف چار ہفتے میں ہی سامنے آجاتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اسے خطرے کی گھنٹی سے تعبیر کیا ہے۔ اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر رُتھ بیرنٹوس کہتے ہیں کہ پروسیس شدہ غذائیں فوری طور پر یادداشت کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے اعصابی تناؤ اور زوال کا آغازبھی ہوسکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ الزائیمر اور ڈیمنشیا کی وجہ بنتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس لیے ماہرین نے کہا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے اس منفی اثر کو کم کیا جاسکتا ہے، یعنی پروسیس والی خوراک اگر کھالی گئی ہیں تو اس کے منفی اثرات اومیگا تھری سے کم کئے جاسکتے ہیں۔ اس تحقیق کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی خوراک کھائیں وہ تازہ ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں