گجرات : جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جسے عوامی مسائل کا احساس ہے ؛ عبدالستار مرزا صدر پریس کلب گجرات

گجرات (پ ر) جماعت اسلامی گجرات ضلع گجرات کے زیر اہتمام چوہدری انصر دھول ایڈووکیٹ کی میزبانی میں گجرات کے سلگتے مسائل”قبضہ مافیا“ میٹرو سٹی سانحہ،سڑکوں کی ابتر حالت، کرپشن کے حوالے سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر گجرات پریس کلب عبدالستار مرزا نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جسے عوامی مسائل کا احساس ہے جنہوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر ثابت کیا کہ گجرات کے لوگوں کو یک زبان ہو کر اواز بلند کرنی چاہئے جماعت اسلامی کے علاوہ ہم دیکھیں کہ ضلع گجرات کے عوام مجموعی طور پر بے حس ہو چکے ہیں اگر کسی کو بجلی،صفائی، پانی اور کسی محکمے کی کرپشن کا مسئلہ درپیش ہے توہم اپنے طور پربھی ایسے لوگوں کا محاسبہ کرنے کیلئے اپنی آواز بلند نہیں کرتے جسکی وجہ سے دوسرے اضلاع سے آنیوالے افسران کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی ہوتی ہے مسئلہ کا حل سب چاہتے ہیں لیکن اسکے ساتھ اپنی شناخت بھی چھپانا چاہتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ ہر کام کی آواز میڈیا ہی بلند کرے تاکہ انکی ساکھ بھی بچی رہے اور تعلقات بھی آفیسران سے قائم رہیں آگر ماضی کے ادوار میں دس سال پیچھے کی طرف نظر دوڑائی جائے تو چاہے پاکستان مسلم لیگ(ق) پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن ، جماعت اسلامی کے رہنما یا کارکنان ہوں وہ مہنگائی ، لوڈشیڈنگ سمیت کسی نہ کسی ایشو پر ریلیاں، جلوس نکال کر عوامی حقوق اور بنیادی مسائل کیلئے اپنے تہی آواز بلند کرتے تھے مگر اب صورتحال اسکے برعکس ہے ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے عملی طور پر کچھ بھی نہ کرنا پڑے کیونکہ افسوس ہم صرف فوٹو سیشن اور اپنی اپنی جماعت کی پبلسٹی کی حد تک قائل ہو چکے ہیں باقی سارا دارومدار میڈیا پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ میڈیا والے آئیں وہی کچرے کی تصویر بھی بنائیں وہی میونسپل کارپوریشن کو بھجوائیں وہیں ہمارا کچرا اٹھانے تک اپنی ذمہ داری ادا کریں صدر گجرات پریس کلب عبدالستارمرزا نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں اب لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے حقوق لینے کیلئے خود آگے بڑھ کر کردار اداکریں سرائے عالمگیر کا سانحہ بظاہر ایک دن میں رونما نہیں ہوا میڈیا تو کئی ماہ پہلے ان واقعات، حالات کی نشاندہی کرتا رہالیکن وہاں کی خواتین کی اسلحہ اُٹھالینے کے اعلان کرتی رہی مگر اسکے کے باوجود نہ تو کوئی سیاسی جماعت نہ انتظامیہ اور نہ ہی عوامی نمائندے حرکت میں آئے میں لیکن اب واقعہ پر سب مذمت کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ گجرات ایسا ضلع ہے جو ہر دور میں برسر اقتداررچلا آرہا ہے لیکن اس کے باوجود دیہی علاقوں کی خواتین کا اپنے حقوق کیلئے اور قبضہ مافیا کے خلاف بندوقیں تھام لینے کی خبریں تمام جماعتوں کے سربراہان کیلئے لمحہ فکریہ ہیں کہ ہم کس طرف اپنے ضلع کو لیکر جا رہے ہیں سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق تحصیل سرائے عالمگیر سرکاری اراضی پر قبضوں کے حوالے سے پہلے اور تحصیل کھاریاں دوسرے نمبر پر ہے جہاں اگر سرکار کی اپنی اراضی محفوظ نہیں تو یہ عوام کی اراضی کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کے کئی مقدمات اور اربوں روپے کی پراپرٹیز پر قبضوں کے مقدمات ہیں مگر وہ آج بھی محکمہ مال اور دیگر اداروں میں ذلیل ہو رہے ہیں صدر گجرات پریس کلب عبدالستارمرز انے کہا کہ گجرات وہ واحد ضلع ہے جہاں بغیر کسی صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کے پولیس ریونیو کمیٹی بنا دی گئی جہاں معاملات سلجھانے کی بجائے الجھا ئے جارہے ہیں کئی سالوں سے پہلے ہی لوگ اپنے حقوق کیلئے عدالتوں کے چکر لگارہے ہیں اور اب ریونیو کمیٹی کے ہتھے رہی سہی کسر نکل رہی ہے سانحہ میٹرو سٹی سے مقامی ایس ایچ اوز اس حد تک خوفزدہ تھے کہ وہ وردی کی بجائے سول کپڑوں میں وہاں موجود تھے کیونکہ انہیں بھی ٹارگٹ کیا جارہا تھا اوروہ کچھ کرنے سے قاصر تھے مقامی نمائندوں اور مکینوں کو چاہے تھا کہ جب میٹرو سٹی یا کوئی دوسرا لینڈ مافیا بنا تووہ ابتداء میں آواز بلند کرتے تو آج حالات یہ نہ ہوتے المیہ ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے این او سی ضلع کونسل کی بجائے کارپوریشن کے آفیسران جاری کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف عدالتی احکامات ہیں کہ زرعی زمینوں میں ہاؤسنگ سوسائٹیاں نہیں بن سکتی تحصیل گجرات میں کئی سالوں سے ہاؤسنگ سوسائٹیز کام کررہی ہیں مگر کبھی ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے دوسرے اضلاع سے آنیوالا لینڈ مافیا ہمارے ضلع کا امن تباہ کر رہا ہے ہمارے لوگوں کو افسران کو سیاسی نمائندوں کو میڈیا، تاجروں کو ملکر ان لوگوں کا محاسبہ کرنا ہو گا تا کہ ہمارے ضلع کا امن خراب نہ کر سکیں صدر گجرات پریس کلب عبدالستارمرز انے کہا کہ گجرات پریس کلب اور یہاں کی صحافی برادری اپنا کردار اداکرتے ہوئے عوام کی آواز بنتا رہے گا مگر بحیثیت قوم ہمیں مجموعی آواز بلند کرنی ہو گی تا کہ عوامی افسران اور حکام بالا تک آواز پہنچ سکے اور جو لوگ ہمارے ضلع کا امن تباہ کرنے آئے ہیں انکا ملکر محاسبہ کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں